اربن فاریسٹ‘ کا, منصوبہ تاخیر, کا شکار, کیوں

اربن فاریسٹ‘ کا منصوبہ تاخیر کا شکار کیوں

کراچی:راچی کے رہائشی شہزاد قریشی کو جنگل دیکھنے کا بہت شوق تھا مگر ایسا وہ صرف چھٹیوں میں شہر سے کہیں دور سفر کر کے ہی کر پاتے تھے تاہم معاملہ صرف شوق کا نہیں تھا

کراچی میں گرمی کی بڑھتی ہوئی شدت اور اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات بھی شہزاد کو مجبور کر رہی تھیں کہ وہ اس موسمیاتی مشکل کا کوئی حل ڈھونڈیں۔
ڈھائی برس پہلے انٹرنیٹ پر ایک ایسا طریقۂ کار دیکھا جس میں بتایا گیا تھا کہ جنگل کہیں بھی اگایا جا سکتا ہے، شہزاد کا دل للچایا اور انھوں نے اپنے شہر کو ہرا بھرا کرنے کی ٹھان لی۔
اور ان کی محنت کا نتیجہ کلفٹن کے علاقے میں معروف مقام دو تلوار کے قریب ایک پارک میں ایک اربن فارسٹ یعنی ‘شہری جنگل’ کی شکل میں نکلا۔
شہزاد کو جاپانی ماہرِ نباتات اکیرا میواکی کی تعلیمات ملیں۔ انھی کے نام سے منسوب میواکی میتھڈ ایک ایسا طریقۂ کار تھا جس سے وہ یہ جنگل بنانے والے تھے۔
اس منصوبے کی سب سے اچھی بات یہ تھی کہ عام تاثر کے برعکس شہزاد یہ جنگل انتہائی قلیل مدت میں کھڑا کر سکتے تھے۔
ان کے بقول ‘ہم زیادہ دور کی نہیں سوچتے، 10، 15 سال والے کام ہم سے نہیں ہوتے، میں بھی ویسا ہی ہوں، تین سال میں اپنا جنگل کھڑا ہو جائے گا جسے نہ پانی دینا ہے، نہ کیڑے مارنے والی کوئی دوا دینی ہے، سب خود ہی ہو جائے گا تو میں نے کہا کہ اس کو بنا لیتا ہوں۔’
شہزاد نے جنوری سنہ 2016 میں کراچی کی ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر اس منصوبے کا پائلٹ شروع کیا۔
‘ہم نے 400 مربع میٹر کے ٹکڑے پر کام شروع کیا۔ ہمیں اندازہ ہو گیا کہ درخت بہت تیزی سے بڑھتے ہیں۔ ہم نے 1,240 پودے لگائے تھے اب وہ 1,400 تک ہو گئے ہیں۔ ہم نے 45 اقسام لگائی تھیں، ان میں سے 30 یا 32 ابھی تک باقی ہیں۔’
شہزاد کہتے ہیں ‘درختوں کے جو فوائد ہیں، کسی جنگل کی شکل میں وہ 30 گنا بڑھ جاتے ہیں۔ آکسیجن کی پیداوار، کارن ڈائی آکسائڈ کا جذب ہونا، سب 30 گنا بڑھ جاتا ہے۔ بائیو ڈائیورسٹی ہزاروں گنا بڑھ جاتی ہے۔ جب یہ چیزیں نظر آنا شروع ہو گئیں تو ہم نے کہا کہ ہم یہاں رک نہیں سکتے اور پھر ہم نے یہ پارک لے لیا اور اس میں 50,000 درخت لگانے ہیں۔’

مگر ہریالی کے علاوہ شہزاد اس جنگل سے کئی اور فائدہ بھی لینا چاہتے تھے۔

‘ہم نالے کے پانی کو لیتے ہیں اور اسے ایک ریتھ بیڈ سے گزارتے ہیں، پودوں کی جڑوں سے گزارتے ہیں اور ساتھ میں ہم نے ایک جھیل بنائی ہے جہاں ہم اس کا ذخیرہ کر لیتے ہیں۔ اب ہمارے پاس اتنا پانی ہے کہ تین سال تک ہم آرام سے اس جنگل کو فیڈ کریں گے، جھیل کی جھیل رہے گی اور اس کے اندر اپنی زندگی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’ایک اور عالمی مسئلہ کچرے کا ہے، مجھے لگتا ہے کہ ہم کچرے میں ہی تباہ ہو جائیں گے۔ اس کے متعدد حل ہیں۔ پہلے تو لوگوں کو سیکھانا ہے کہ اپنے کچرے کو علیحدہ کریں۔ آپ جو کچرا پیدا کر رہے ہیں وہیں سے وہ چار یا چھ حصوں میں بٹ جانا چاہیے۔
’جاپان کے کچھ شہروں میں وہ 27 مختلف حصوں میں بانٹتے ہیں۔ پھر ان کے راستے ہیں، اگر وہ شیشہ ہے تو وہ کہیں اور جائے گا اور پلاسٹک ہے تو کہیں اور۔
ہم نے کومپوسٹنگ شروع کی ہے اور ایک کمپنی نے ہمارے لیے کمپوسٹنگ کا نظام بنایا ہے۔ ہم محلے کا کچرہ یہاں کمپوسٹ کرتے ہیں۔ یہ ماڈل ہونا چاہیے کہ ہر محلے میں آپ آرگینک کچرہ علیحدہ کریں اور اس کو کہیں ایک ہی جگہ جا کر پھینکیں تاکہ وہاں کی مٹی ذرخیز ہونا شروع ہو جائے۔’
معاہدے کے منسوخی اور انتظامیہ کے اعتراضات
شہزاد کے ’اربن فاریسٹ‘ میں یہ سب جاری تھا کہ کراچی کی انتظامیہ نے ان سے اس پارک کا کنٹرول لے لیا۔
کے ایم سی کے ڈی جی آفاق مرزا کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ معاہدہ اس لیے منسوخ کیا کیونکہ شہزاد نے کافی وقت گزرنے کے باوجود کوئی معنی خیز نتائج نہیں دکھائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ شہزاد قریشی اس پارک کے نام پر لوگوں سے پیسے جمع کر رہے ہیں مگر ان کے ماسٹر پلان میں بہت بڑے تکنیکی مسائل تھے۔
آفاق مرزا کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ کراچی کی انتظامیہ شہری جنگل کا یہ منصوبہ 25 روز میں مکمل کر لے گی۔
شہزاد قریشی کا کہنا ہے کہ معاہدے کی منسوخی صرف ایک ابہام کا نتیجہ ہے اور ان کا خیال ہے کہ وہ ضلعی انتظامیہ کو اپنی کامیابیوں پر قائل کر لیں گے۔
‘ہم ذرا مختلف کام کرتے ہیں۔ ہمیں لوگوں سے پیسے جمع کر کے کام کرنا پڑتا ہے۔ ہم زمین کو ایک میٹر تک کھودتے ہیں تین قسم کے بائیو ماس لگاتے ہیں۔ کام نظر بہت آہستہ آتا ہے مگر پودے کے اگنے کا وقت تو دینا ہے۔’
شہزاد کا کہنا ہے ‘لوگ سمجھتے ہیں کہ درخت ہیں تو ٹھیک ہے، باغ میں چار درخت ہوں اور گھاس لگی ہو تو سبزہ اچھا لگتا ہے۔ کتابوں میں یہ پڑھ لیا کہ یہ آکسیجن بناتے ہیں مگر اس پر زیادہ کوئی سوچتا نہیں ہے کہ ان کا انسان سے رشتہ کیا ہے اس کے بارے میں کبھی سوچا نہیں۔
’ہمیں لگتا ہے کہ یہ ایک الگ دنیا ہے اور وہ ایک الگ دنیا ہے اور ہمیں لگتا ہے کہ یہ سب انسانی کی خدمت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ ہماری مرضی ہے کہ انھیں ہم کاٹ کے گھر بنا لیں، فرنیچر بنا لیں۔’
شہزاد کے بقول ‘ہمیں یہ احساس ہونا چاہیے کہ ہم اسی جنگل کا حصہ تھے اور اسی میں رہتے تھے، اب ہم نے اگر اپنی سہولت کے لیے بہت سی چیزیں پیدا کر لی ہیں تو اس کا دنیا کے (ایکو سسٹم) نظامِ حیاتیات پر کیا اثر پڑا ہے، اس کا اندازہ نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں

کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان

کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان

اسلام آباد:  محکمہ موسمیات نے آئندہ دو روز میں ملک کے مختلف علاقوں میں گرج …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے