عمران خان وزیراعظم کا منصب سنبھالنے, کے بعد ,کم از کم چار, بار یہ ,بات کہ چکے

عمران خان وزیراعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد کم از کم چار بار یہ بات کر چکے

ایسے میں یہ سوال تو بنتا ہے کہ یہ این آر او ہے کیا چیز اور کون اور کیوں ان سے وہ چیز مانگ رہا ہے جو وزیراعظم انھیں دینے پر ہرگز آمادہ نہیں۔ آئیے یہ اور اس ’این آر او‘ سے جڑی دوسری گتھیاں سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، قومی مفاہمتی آرڈیننس یا این آر او (National Reconciliation Ordinance) ایک صدارتی آرڈیننس ہے جسے سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے 5 اکتوبر 2007 میں جاری کیا۔
اس صدارتی آرڈیننس کے ذریعے صدر مملکت نے قانون میں ترمیم کرتے ہوئے ان تمام مقدمات کو ختم کرنے کا اعلان کیا جو یکم جنوری 1986 سے لے کر 12 اکتوبر 1999 کے درمیان ’سیاسی بنیادوں‘ پر درج کیے گئے تھے۔
اس آرڈیننس کے نتیجے میں آٹھ ہزار سے زائد افراد کے خلاف بدعنوانی اور دیگر سنگین جرائم جن میں قتل، اقدام قتل اور بلوے کے ملزم بھی شامل تھے، بیک جنبش قلم، ختم کر دیے گئے۔
تاہم دو برس بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس آرڈیننس کو مفاد عامہ اور آئین کے خلاف قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا جس کے بعد یہ مقدمات دوبارہ کھل گئے تھے۔
بنیادی طور پر یہ قانون اس وقت پیلز پارٹی کی جلا وطن سربراہ بینظیر بھٹو کی پاکستان اور پاکستانی سیاست میں واپسی کو ممکن بنانے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ بینظیر بھٹو اور ان کی جماعت کے دیگر سینکڑوں رہنماؤں اور کارکنوں، جن میں ان کے شوہر آصف علی زرداری بھی شامل تھے، کے خلاف 1986 اور 1999 کے درمیان ڈھیروں مقدمات درج کیے گئے تھے۔
ان مقدمات کی موجودگی میں بینظیر بھٹو اور ان کے ساتھی وطن واپس نہیں آ سکتے تھے جبکہ جنرل پرویز مشرف انہیں ملکی سیاست میں واپس لانا چاہتے تھے تاکہ ملک اور اپنے آپ کو بڑے سیاسی بحران اور بین الاقوامی دباؤ سے محفوظ رکھ سکیں۔ اس آرڈیننس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی اور بعض دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کے علاوہ بڑی تعداد میں سرکاری ملازمین کے خلاف مقدمات خارج کر دیے گئے۔
بنیادی طور پر یہ قانون اس وقت پیلز پارٹی کی جلا وطن سربراہ بینظیر بھٹو کی پاکستان اور پاکستانی سیاست میں واپسی کو ممکن بنانے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ بینظیر بھٹو اور ان کی جماعت کے دیگر سینکڑوں رہنماؤں اور کارکنوں، جن میں ان کے شوہر آصف علی زرداری بھی شامل تھے، کے خلاف 1986 اور 1999 کے درمیان ڈھیروں مقدمات درج کیے گئے تھے۔
ان مقدمات کی موجودگی میں بینظیر بھٹو اور ان کے ساتھی وطن واپس نہیں آ سکتے تھے جبکہ جنرل پرویز مشرف انہیں ملکی سیاست میں واپس لانا چاہتے تھے تاکہ ملک اور اپنے آپ کو بڑے سیاسی بحران اور بین الاقوامی دباؤ سے محفوظ رکھ سکیں۔ اس آرڈیننس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی اور بعض دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کے علاوہ بڑی تعداد میں سرکاری ملازمین کے خلاف مقدمات خارج کر دیے گئے۔
اس قانون سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد آٹھ ہزار سے زیادہ بنتی ہے جن میں اس وقت کی متحدہ قومی مومنٹ کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف بھی بڑی تعداد میں مقدمات ختم ہو گئے تھے۔ اس جماعت کے سینکڑوں کارکن اور رہنما قتل، بھتہ خوری اور بلوے کے مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھے۔
جن دیگر اہم افراد کے خلاف اس این آر او کے تحت مقدمات ختم کیے گئے ان میں بینظیر بھٹو کے سسر حاکم علی زرداری، ایم کیوایم کے سربراہ الطاف حسین، سابق گورنر عشرت العباد، فارق ستار، مولانا فضل الرحمٰن، رحمٰن ملک، حسین حقانی، سلمان فاروقی وغیرہ شامل تھے۔ سپریم کورٹ سے اس آرڈیننس کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد یہ مقدمات دوبارہ کھل گئے تھے لیکن اس وقت بینظیر بھٹو اس دنیا میں نہیں تھیں اور آصف زرداری صدر مملکت ہونے کی وجہ سے ان مقدمات سے استثناٰ حاصل ہو چکا تھا۔
بعض دیگر افراد جن میں اس وقت کے بعض وزرا بھی شامل تھے مقدمات کھلنے کی وجہ سے کچھ پریشان تو ہوئے لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت ہونے کی وجہ سے کوئی بڑی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی۔
ایسا ممکن نہیں ہے۔ عدالت سے مسترد ہونے کے بعد این آر او کا قصہ تو نو سال پہلے ختم ہو چکا ہے۔ موجودہ سیاسی صورتحال میں این آر او ایک سیاسی اصطلاح کے طور پر ہی استعمال ہو سکتا ہے۔
عدالت میں چونکہ اس طرح کے آرڈیننس کو امتیازی قرار دیا جا چکا ہے جو ایک نظیر کی صورت میں پاکستان کی قانون کی کتابوں میں موجود ہے تو اس طرح کے قانون یا آرڈیننس کو دوبارہ جاری کرنا بھی بےمعنی ہو گا کیونکہ عدالت گزشتہ فیصلے کی روشنی میں این آر او یا اس طرح کے کسی بھی قانون کو فوراً مسترد کر دے گی۔
لہٰذا جب عمران خان یا کوئی اور سیاسی رہنما این آر او کی اصطلاح استعمال کرتا ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے سیاسی مخالفین کے خلاف مقدمات یا تحقیقات کو ختم کرنا۔ اس کے لیے صدارتی آرڈیننس یا این آر او ہی واحد طریقہ نہیں ہے۔
حکومت اگر چاہے تو من پسند افراد کو مقدمات سے نکلنے میں مختلف طریقوں سے مدد دے سکتی ہے۔ مثلاً ریاست ان سیاسی مخالفین کے خلاف مقدمات کی پیروی نہ کرے، ان کی ضمانتوں کی درخواستوں کی مخالفت نہ کرے وغیرہ وغیرہ۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا کوئی عمران خان سے این آر او مانگ بھی رہا ہے؟ اگر اس سوال کا جواب مل جائے تو پہلے سوال کا جواب دینا آسان ہو جائے گا۔ عمران خان کے اہم سیاسی مخالفین نواز شریف اور ان کی جماعت کے رہنما اور خاندان کے افراد ہیں۔
اس کے علاوہ آصف علی زرداری بھی متعدد مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ عمران خان کے مخاطب مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے رہنما ہی ہیں۔
لیکن مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب اور خود آصف علی زرداری اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ وہ سیاسی بنیادوں پر اپنے خلاف مقدمات کے اخراج یا اس میں سہولت ملنے کے خواہشمند ہیں۔
اب اگر ان میں کسی نے، یا کسی اور نے پردے کے پیچھے چپکے سے وزیراعظم سے مقدمات میں "ہتھ ہولا” رکھنے کی درخواست کر رکھی ہے تو اس بات کو منظر عام پر لانا وزیراعظم کی ذمہ داری بنتی ہے۔
اب یہ بحث ذرا نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے جسے یو ٹرن بھی کہا جا سکتا ہے۔ عمران خان پر ان کے سیاسی مخالفین بہت عرصے سے یو ٹرن لینے کے الزامات لگاتے آ رہے ہیں۔ کہنا ان کا یہ ہے کہ عمران خان ایک بات کرتے ہیں اور کچھ عرصے بعد اس سے مختلف مؤقف کے ساتھ سامنے آ جاتے ہیں۔
ایک تو یہ بات ہے۔ دوسری بات یہ کہ خود این آر او کے خالق جنرل پرویز مشرف نے جب اقتدار سنبھالا تھا تو وہ ڈنکے کی چوٹ پر کہتے تھے کہ پاکستانی سیاست سے نواز شریف اور بینظیر کا خاتمہ ہو چکا ہے اور یہ دونوں شخصیات اور ان کے حواری اب پاکستانی سیاست میں کبھی واپس نہیں آئیں گے۔
پھر یہ بھی ہوا کہ فوجی سربراہ نے اپنے انٹیلی جنس سربراہ اور بعض دیگر وردی و نے وردی افراد کے ذریعے بینظیر بھٹو کو پاکستان واپس آنے پر یہ کہ کر قائل کرنے کی کوشش کی کہ انہیں ’کچھ نہیں کہا جائے گا‘۔
تیسری بات ایک قدیم سیاسی قول ہے کہ سیاست میں کوئی چیز مستقل نہیں ہوتی۔ یہ منظر آسمان نہیں بار بار دیکھا ہے کہ کل کے سیاسی حواری آج کے دوست اور آج کے دوست کل دشمن بن جاتے ہیں۔ تو آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔

یہ بھی پڑھیں

بہت, سوں کے, خوابوں کی تعبیر کھو, رہی ہے،, امید ٹوٹ, رہی ہے

بہت سوں کے خوابوں کی تعبیر کھو رہی ہے، امید ٹوٹ رہی ہے

المیہ یہ نہیں کہ پی ٹی آئی کی کارکردگی کچھ اچھی نہیں، افسوس اس بات …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے