سوال’۔۔۔ کیا ہے، کیوں ہے، کب ہے، کہاں ہے اور, کیسے ہے؟

سوال کیا ہے کیوں ہے کب ہے کہاں ہے اور کیسے ہے؟

سوال پوچھنے کے لیے ہمت چاہیے، طاقت چاہیے اور علم چاہیے۔۔۔ سوال کے لئے زُبان چاہیے، حقائق چاہییں اور الفاظ چاہییں۔۔

سوال، سوچ کا اظہار، گفتگو کا انداز اور علم کی بنیاد ہے۔ سوال کی طاقت کا اندازہ سقراط کو تھا جو گلی گلی، محلے محلے پوچھتا تھا اور سوال اُٹھانے کی ترغیب دیتا تھا۔ سوال کی طاقت کا اندازہ باب العلم کو تھا جو سلونی سلونی کی صدائیں لگاتے تھے۔۔۔ اور سوال کی طاقت کا علم مدینۃ العلم کو تھا جن کی ہر محفل میں سوال پوچھنے والے کی خاص اہمیت تھی۔
سوال اُس وقت اٹھایا جاتا ہے جب جانتے ہوں اور مزید جاننا چاہتے ہوں۔۔۔ اور اُس وقت بھی جب آپ جواب جانتے ہیں۔ جس معاشرے میں سوال اُٹھانے کی اجازت نہ دی جائے وہاں جواب بھی ختم ہو جاتے ہیں اور جواز بھی۔
ہم سوال سے ڈر کیوں رہے ہیں؟ یہی میرا سوال ہے۔ آج ذرائع ابلاغ کی صنعت زوال کی جانب جا رہی ہے۔ ہر روز ٹی وی چینلوں سے ورکرز نکالنے کی اطلاع آ رہی ہے تو ہم صرف یہ سوال اُٹھا سکتے ہیں کہ یہ کب ہوا؟ کیوں ہوا؟ اور کیسے ہوا؟

یہ بھی پڑھیں

صاحب اب حالات وہ نہیں رہے، بیٹے, کی جوتی, پیر میں پوری آ جائے تو ذرا, احتیاط, کرنی چاہیے

صاحب اب حالات وہ نہیں رہے، بیٹے کی جوتی پیر میں پوری آ جائے تو ذرا احتیاط کرنی چاہیے

تھانیدار صاحب! ماجے کی بھینس آپ نے کھلوائی، چوری مانے پر ڈلوائی اور مار دونوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے