صحافی, جمال خاشقجی, کو منصوبہ بندی, کے تحت, قتل کیا

صحافی جمال خاشقجی کو منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا

انقرہ: سعودی عرب سے آنے والی 15 رکنی ٹیم اور قونصل خانے کے 3 اراکین ملوث ہیں۔ تاہم سعودی عرب قتل میں ملوث افراد کو بے نقاب کرے

ترکی صدر طیب اردگان نے پارلیمنٹ سے خطاب میں صحافی کے لرزہ خیز قتل کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب سے 15 افراد تین الگ الگ پروازوں سے استنبول پہنچے اور اگلے روز جمال خاشقجی کو طلب کیا گیا۔ انہی 15 افراد نے قونصل خانے کے 3 حکام کے ساتھ مل کر صحافی کو قتل کیا۔
ترکی کے صدر کا کہنا تھا کہ لاش کے حوالے سے متضاد بیانات کیوں آرہے ہیں، خاشقجی کی لاش کہاں ہے سعودی عرب جواب دے، اطلاع ہے کہ مقامی شخص کو خاشقجی کی لاش ٹھکانے لگانے کے لیے دی گئی تھی اس شخص کی معلومات فراہم کی جائے
ریاض سے آنے والے 15 افراد نے قریبی جنگل ایلوا کا دورہ بھی کیا اور ہمیں خدشہ ہے کہ انہی لوگوں نے صحافی کی لاش کو جنگل میں چھپایا دیا ہو تاہم ہم لاش کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ترکی صدر نے کہا کہ کئی بار کی ٹال مٹول کے بعد سعودی عرب صحافی کے قتل کا اعتراف کرچکا ہے لیکن اب تک ہمارے سوالوں کے جوابات نہیں دیے گئے، سعودی عرب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قتل میں ملوث افراد کو بے نقاب کرے۔
ترکی صدر نے سوال اُٹھایا کہ صحافی کے قتل والے دن اہم سیکیورٹی اور ماہرین پر مشتمل 15 رکنی ٹیم استنبول کیوں ہہنچی؟ ان افراد کو کس کے حکم پر استنبول بھیجا گیا؟ اور قونصل خانے کے معائنے کے لیے اتنے دن کیوں لیے گئے؟
ترکی صدر کا کہنا تھا کہ قتل ہماری سرزمین پر ہوا ہے تاہم ویانا کنونشن کے تحت قونصل خانے کو حاصل استثنیٰ کے باعث تحقیقات میں مشکل پیش آئیں تاہم عالمی قوانین ایسے جرم کی اجازت نہیں دیتے۔ ہم نے عالمی قوانین کا احترام کرتے ہوئے اپنے قوانین کے تحت تفتیش کی۔
طیب اردگان نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا کہ صحافی جمال خاشقجی کی لاش کی اطلاع دی جائے، ستمبر کے اوائل ہی سے صحافی کے قتل کی منصوبہ بندی شروع کردی گئی تھی۔ ہم شاہ سلمان کی نیت پر شک نہیں کر رہے لیکن ترکی کو پورے حقائق جانے کا حق حاصل ہے
ترکی کے صدر نے کہا کہ جمال خاشقجی کے لیے دعائے مغفرت کرتا ہوں اور اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ مجھے ان کے ساتھ مکمل ہمدری ہے اور یقین دلاتا ہوں کہ جو بھی قتل میں ملوث ہے اسے قانون کے دائرے میں لایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں

مقبوضہ کشمیر میں مظالم، کینیڈا کا بھارتی فوجیوں کو ویزہ دینے سے صاف انکار

مقبوضہ کشمیر میں مظالم، کینیڈا کا بھارتی فوجیوں کو ویزہ دینے سے صاف انکار

اوٹاوا: مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کے بعد کینیڈا نے سابق بھارتی فوجی افسران …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے