آنے والے 3 سے 6 ماہ, پاکستان, کیلیے ,سخت ہیں

آنے والے 3 سے 6 ماہ پاکستان کیلیے سخت ہیں

ریاض: سعودی دارالحکومت ریاض میں 3 روزہ سرمایہ کاری کانفرنس میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان ان دو ملکوں میں شامل ہے

سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان ان دو ملکوں میں شامل ہے جو نظریے کی بنیاد پر قائم ہوئے، میرا مقصد پاکستان میں ریاست مدینہ کی طرز پر حکومت قائم کرنا ہے اور نئے پاکستان سے مراد قائداعظم کا پاکستان ہے، نیا پاکستان قائداعظم کے اصولوں کے تحت بنانا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں فوری طور پر کرنٹ خسارے کا سامنا ہے، ہمیں تجارتی اور بجٹ خسارہ ورثے میں ملا ہے تاہم ہم منی لانڈرنگ روکنے کے لیے بڑے اقدامات کر رہے ہیں، کرپشن ریاستی اداروں کو تباہ و برباد کر دیتی ہے، کرپشن ہی ایک ملک کو غریب سے غریب تر بناتی ہے لہذا ہماری حکومت کا مشن کرپشن کا خاتمہ کرکے ریاستی اداروں کو مضبوط کرنا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ منی لانڈرنگ روکنے کے لیے بیرون ملک پاکستانیوں کو بینکوں کے ذریعے ترسیلات بھجوانے کے لیے راغب کرنا ہے اور ہم پاکستان کی بر آمدات کو بڑھانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔
سعودی دارالحکومت ریاض میں آج سے 3 روزہ سرمایہ کاری کانفرنس شروع ہوگئی ہے، کانفرنس میں وزیراعظم عمران خان نے شرکت کی جس کے بعد وہ سعودی فرمان روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات بھی کریں گے۔
کانفرنس میں دنیا بھر سے ممتاز کاروباری شخصیات، بڑی کاروباری کمپنیاں اور ہائی ٹیک انڈسٹری کے نمائندگان شرکت کر رہے ہیں۔ تقریباً 4 ہزار افراد اس کانفرنس کا حصہ ہیں اور 90 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے 180 سے زائد مقررین خطاب کریں گے۔
سرمایہ کاری کانفرنس کا مقصد دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو سعودی عرب میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دینا ہے تاہم صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے معاملے کی وجہ سے امریکا، برطانیہ، فرانس اور ہالینڈ کی طرف سے کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا گیا ہے جب کہ بلومبرگ، فنانشل ٹائمز اور سی این این جیسے بڑے نشریاتی اداروں نے بھی کانفرنس کی حمایت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

سعودی وزیرِ خارجہ نے کشمیر کے سوال پر بھارتی صحافی کا منہ بند کرا دیا

سعودی وزیرِ خارجہ نے کشمیر کے سوال پر بھارتی صحافی کا منہ بند کرا دیا

نئی دہلی: سفارتی محاذ پر بھارت کو ایک اور دھچکا پہنچا ہے، سعودی وزیرِ خارجہ نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے