سپریم کورٹ بار کا پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاج

صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن بیرسٹر علی ظفر نے سانحہ کوئٹہ کے کردار بے نقاب کرنے کیلئے حکومت کو ایک ماہ کی ڈیڈلائن دے دی ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج سے پہلے ایک پریس کانفرنس میں صدر سپریم کورٹ بار بیرسٹر علی ظفر نے سانحہ کوئٹہ سے قبل لی گئی ایک تصویر میڈیا کے سامنے پیش کی جس میں ایک مشتبہ شخص کی تصویر پر نشان لگایا گیا تھا ۔ وکلا کا کہنا تھا کہ وہ اس شخص کو نہیں جانتے اور مبینہ طور پر یہی شخص ہی خود کش حملہ آور ہوسکتا ہے

بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ وکلا نے جمہوری استحکام اور قانون کی حکمرانی کیلئے جد وجہد کی ۔ کوئٹہ میں وکلا کو کمزور کرنے کیلئے نشانہ بنایا گیا لیکن سانحہ کے بعد ایک دوسرے کے مزید قریب ہوگئے۔ آج پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پر امن احتجاج کریں گے ، حکومت ایک ماہ میں سانحہ کوئٹہ کے کردار بے نقاب کرے اور اگر مطالبات منظور نہ ہوئے تو ملک بھر میں دھرنے دیں گے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن مزید تیز کیا جائے اور کومبنگ آپریشن کا دائرہ کار پورے ملک تک بڑھایا جائے۔

 

یہ بھی پڑھیں

بجلی چوری, پر, قابو پانے سے, اٹھاون ارب روپے, حاصل ہوئے

بجلی چوری پر قابو پانے سے اٹھاون ارب روپے حاصل ہوئے

اسلام آباد: بجلی کے بلوں کی وصولی میں اکیاسی ارب روپے کے اضافہ پر وزیراعظم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے