کولگام میں, شہری, ہلاکتوں کا, ذمہ دار کون

کولگام میں شہری ہلاکتوں کا ذمہ دار کون

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان مسلح تصادم کے بعد اس مقام پر مظاہرین کی ہلاکتیں کچھ عرصے سے ایک معمول سا بنتی جا رہی ہیں

ان واقعات میں عموماً محصور عسکریت پسندوں کو بچانے کے لیے لوگ جائے تصادم کے قریب جا کر مظاہرے کرتے ہیں، سکیورٹی فورسز کے اہلکار ان پر فائرنگ کرتے ہیں اور تصادم میں عسکریت پسندوں کے علاوہ کئی مظاہرین بھی مارے جاتے ہیں۔
حکام نے اس سلسلے میں بارہا وارننگ بھی جاری کی ہے لیکن اس کے باوجود یہ عمل رکنے کا نام نہیں لیتا۔
یہ سلسلہ سنہ 2016 میں وادی میں مقبول مسلح رہنما برہان وانی کی ہلاکت کے ساتھ ہی شروع ہوا تھا تاہم اتوار کو جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں مسلح تصادم کے دوران تین مقامی عسکریت پسند مارے گئے مگر اس موقعے پر ہونے والی سات شہری ہلاکتوں کی نوعیت کچھ مختلف تھی۔
سکیورٹی فورسز نے حسب معمول اُس مکان کو بارود سے اُڑا دیا جس میں تین مبینہ عسکریت پسند محصور تھے۔ یہ تینوں افراد کولگام اور اننت ناگ سے تعلق رکھتے تھے۔
آپریشن ختم ہوتے ہی لوگوں کی بڑی تعداد خاکستر مکان کے پاس جمع ہوئی تو اسی اثنا میں ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ اس دھماکے کی زد میں آکر مزید تین افراد موقعے پر ہی ہلاک جبکہ 40 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔
زخمیوں میں سے بعد میں مزید چار افراد کی موت ہوگئی جبکہ متعدد کی حالت اب بھی تشویشناک ہے۔
مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ تصادم کے قریب مظاہروں کو روکنے کے لیے سکیورٹی فورسز نے جان بوجھ کر وہاں بم رکھا تھا تاہم پولیس اس الزام سے انکار کرتی ہے اور اس کا موقف ہے کہ مکان میں پہلے سے نصب دھماکہ خیز مواد سے چھیڑ چھاڑ کے نتیجے میں یہ واقعہ پیش آیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لوگ بار بار منع کرنے کے باوجود جائے تصادم کے پاس آتے ہیں اور آپریشن ختم ہونے کے بعد اُس مکان میں داخل ہو جاتے ہیں جہاں تصادم ہوا ہوتا ہے۔
‘آپریشن ختم ہونے کے بعد بم ڈسپوزل سکواڈ کو آنا ہوتا ہے۔ یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ کوئی دھماکہ خیز مواد موجود تو نہیں تاکہ اسے ناکارہ کیا جا سکے لیکن لوگوں نے آپریشن ختم ہوتے ہی مکان میں بھیڑ لگا دی اور اس دوران دھماکہ خیز مواد کے ساتھ کسی نے چھیڑچھاڑ کی جس کی وجہ سے دھماکہ ہوا۔
کشمیر میں گذشتہ دو سال کے دوران 300 سے زیادہ عسکریت پسند اور 100 زیادہ مظاہرین ایسی مختلف کارروائیوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
سابق وزیراعلی محبوبہ مفتی نے اپنے دور اقتدار میں کئی بار پولیس اور فوج سے اپیل کی تھی کہ عسکریت پسندوں کو مار گرانے کی بجائے انھیں گرفتار کرنے کی کوشش کی جائے لیکن ‘آپریشن آل آؤٹ’ دو سال سے جاری ہے اور جنوبی کشمیر میں روزانہ کی بنیاد پر کئی دیہات میں کریک ڈاؤن کیا جاتا ہے۔ تصادم ہوتے ہیں، عسکریت پسند مارے جاتے ہیں اور مظاہرین بھی نشانہ بنتے ہیں۔
نڈین حکومت کا موقف ہے کہ سکیورٹی فورسز کو ‘دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے گولیوں کی گنتی نہیں کرنی چاہیے۔’
اس پالیسی کو یہاں کے سیاسی حلقوں نے ‘مسکیولر پالیسی’ قرار دیا ہے۔ حالانکہ موجودہ گورنر ستیہ پال ملک اور فوجی حکام نے کولگام میں ہوئی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے، تاہم ہلاکتوں اور تصادموں کے دوران رہائشی مکانوں کو بارود سے اُڑانے کی پالیسی سے عوام میں حکومت بیزاری کی لہر پھیلی ہوئی ہے۔
کولگام کے واقعے کے بعد سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ٹویٹ کی ہے کہ ‘کولگام کی ہلاکتیں زمینی صورتحال کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔’ خیال رہے کہ حال ہی میں حکومت ہند نے شہری بلدیاتی اداروں اور پنچایتوں کے لیے انتخابات کا سلسلہ شروع کیا ہے تاہم بڑی ہند نواز جماعتوں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے ان انتخابات کا یہ کہہ کر بائیکاٹ کیا کہ زمینی صورتحال کسی انتخابی عمل کے لیے موزوں نہیں ہے۔
‘ایک طرف حکومت ہند کہتی ہے کہ وہ کشمیری نوجوانوں کے مستقبل کے لیے فکر مند ہے اور دوسری طرف ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کارروائیوں سے نوجوانوں میں انتقامی جذبات اُبھرتے ہیں۔ اگر تین عسکریت پسند مارے جاتے ہیں تو چھ نوجوان بندوق تھامنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ یہ خطرناک صورتحال ہے جسے حکومت ہند نظرانداز کر رہی ہے۔’
کولگام تصادم میں جیش محمد کے تین عسکریت پسند مارے گئے ہیں اور جیش نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سبھی ہلاکتوں کا انتقام لیا جائے گا۔
مسلح گروپ حزب المجاہدین نے ان ہلاکتوں کے خلاف مظفرآباد میں احتجاجی ریلی نکالی۔ گروپ کے سربراہ سید صلاح الدین نے اس موقعے پر کہا کہ ‘امن پسند کشمیریوں پر تشدد تھوپا گیا ہے۔ بھارت نے پرامن ذرائع سے کشمیریوں کے مطالبات کو نہیں سنا، اب مسلح جدوجہد ہی واحد راستہ ہے۔’
اس دوران ان ہلاکتوں کے خلاف پیر کو کشمیر میں ہڑتال بھی کی گئی ہے۔ تعلیمی اور تجارتی سرگرمیاں ٹھپ ہیں جبکہ جنوبی کشمیر میں انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔
انڈین وزیرِ داخلہ راج ناتھ سنگھ منگل کو کشمیر کا دورہ کر رہے ہیں۔ راج ناتھ سنگھ کہہ چکے ہیں کہ کشمیر میں قیام امن کے لیے متعلقین سے بات چیت کے دروازے کھلے ہیں تاہم اس آفر میں اس قدر ابہام ہے کہ کسی کو معلوم نہیں حکومت ہند کس سے بات کرنا چاہتی ہے۔
حساس عوامی حلقوں کو خدشہ ہے کہ آئندہ حالات مزید کشیدہ ہوں گے کیونکہ حکومت ہند کی ’اپروچ‘ سیاسی سے زیادہ عسکری رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

سعودی وزیرِ خارجہ نے کشمیر کے سوال پر بھارتی صحافی کا منہ بند کرا دیا

سعودی وزیرِ خارجہ نے کشمیر کے سوال پر بھارتی صحافی کا منہ بند کرا دیا

نئی دہلی: سفارتی محاذ پر بھارت کو ایک اور دھچکا پہنچا ہے، سعودی وزیرِ خارجہ نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے