اسلام پر حملہ تمام مذاہب پر حملے کے مترادف،اوباما

 امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ اسلام پر حملہ تمام مذاہب پر حملے کے مترادف اور امریکی معاشرے میں مسلمانوں کے خلاف سیاسی بیان بازی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

واضح رہے صدر براک اوباما نے اپنے 7 سالہ دورِ صدارت کے دوران پہلی بار کسی امریکی مسجد کا دورہ کیا۔

ریاست میری لینڈ کے شہر بالٹی مور میں واقع اسلامک سوسائٹی آف بالٹی مور کی مسجد کے دورے کے موقع پر مسلم کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف سیاسی بیان بازی کی امریکی معاشرے میں کوئی جگہ نہیں۔

یاد رہے کہ امریکا کے آئندہ صدارتی انتخاب کے ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

براک اوباما نے کہا کہ نائن الیون حملوں کے بعد اسلام کا غلط تصور پیش کیا گیا، چند لوگوں کی وجہ سے تمام مسلمانوں کو الزام نہیں دیا جاسکتا، اسلام امن کا درس دیتا ہے اور مسلمانوں کے ساتھ مل کر ہی انتہا پسندی اور دہشت گردی کو ختم کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ گزشتہ سال کیلیفورنیا میں دہشت گردی کے واقعے کے بعد امریکی مسلمانوں اور مساجد پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور مسلمان خود کو غیر محفوظ تصور کرنے لگے ہیں۔

امریکی صدر نے ریاست اوہائیو کی 13 سالہ لڑکی کے خط کا بھی ذکر کیا،جس میں اس کا کہنا تھا کہ وہ موجودہ صورتحال سے خوفزدہ ہے.

براک اوباما نے کہا ‘وہ لڑکی میری بیٹیوں کی طرح ہے اور اس کا خوف میں مبتلا ہونا میرے لیے تشویش کا باعث ہے۔’

انھوں نے امریکا کو متحد کرنے پر مسلمان کمیونٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان امریکی فیملی کا حصہ ہیں اور ہماری تکالیف اور مفادات مشترکہ ہیں جبکہ امریکا کی ترقی میں مسلمانوں کا اہم کردار ہے۔

قبل ازیں براک اوباما نے مسجد میں ملک بھر سے آنے والے امریکی مسلمان رہنماؤں سے ملاقات بھی کی اور ان سے انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے مدد کی درخواست کی۔

یہ بھی پڑھیں

لبنانی حکومت کے اقتصادی اصلاحات کے پروگرام کی منظوری

لبنانی حکومت کے اقتصادی اصلاحات کے پروگرام کی منظوری

لبنانی صدر کے دفتر نے ملک کے اقتصاد کو بحران سے بچانے کے لئے وزیراعظم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے