22 منٹ تک دل رکنے, سے ایک ,سال کی ,عمر تک

22 منٹ تک دل رکنے سے ایک سال کی عمر تک

قبل ازوقت پیدا ہونے والی ایک بچی جس کا دل 22 منٹ تک بند رہا تھا گیا تھااور جسے ڈاکٹر نے معجزاتی بے بی کا نام دیا تھا نے حال ہی میں اپنی پہلی سالگرہ منائی ہے

لیسی شیرف جو جن کی پیدائش 27 ویں ہفتے میں ہی ہو گئی تھی اور پیدا ہوتے وقت ان کا وزن ایک اعشاریہ چار پاؤنڈ تھا کو پانچ دن کی عمر میں دو مرتبہ دل کا دورہ پڑا تھا۔
ان کے والدین کسی بری خبر کے لیے تیار ہو چکے تھے لیکن انھیں زندگی مل گئی۔
لندن کے سینٹ جارج ہسپتال کے ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ لیسی کو اب نارمل زندگی گزارنی چاہیے۔
یہاں آنے سے پہلے لیسی کی پیدائش سینٹ پیٹر ہسپتال میں ایک ہنگامی آپریشن کے دوران ہوئی تھی۔ لیکن پھر تین دن کے بعد انھیں آنتوں میں شدید مسئلے کی وجہ سے ایک اور سرجری سے گزرنا پڑا۔
آپریشن کے دوران ان کا دل پہلے 12 منٹ کے لیے رک گیا تھا اور پھر بعد میں مزید 10 منٹ کے لیے رکا۔
ڈاکٹر تھامس برین جو کہ سینٹ جارج میں آپریشن تھیٹر میں بیہوشی دیے جانے اور دل کو نارمل حالت میں لانے کے لیے مخصوص ٹیم سے منسلک ہیں کہتے ہیں کہ آپریشن بلکل ٹھیک جا رہا تھا لیکن اچانک اس کی طبیعت خراب ہونا شروع ہو گئی۔ ہمیں بدترین صورتحال کا خوف تھا لیکن ہم نے ہمت نہیں ہاری۔
وہ کہتے ہیں کہ میں نے کبھی اس قدر چھوٹی عمر کے اتنے شدید بیمار بچے کو جس کی موت یقینی نظر آرہی ہو دماغ کو نقصان پہنچے بغیر صحت یاب ہوتے دیکھا ہے۔
لیسی کے والد فپ اور والدہ لوئیس ایشفورڈ میں رہتے ہیں جو جانتے تھے کہ ان کی بچی کی زندگی بچنے کے بہت کم امکانات ہیں۔
39 سالہ وئیس کہتی ہیں کہ ہم نہیں سوچ سکتے تھے کہ وہ اس آپریشن میں بچ پائے گئی اور ہم اس وقت یہ سوچ رہے تھے کہ ہم نے لیسی کا برتھ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ اکھٹے جمع کروا رہے ہوں گے۔
وہ کہتی ہیں کہ یہ جذباتی طور پر عجیب صورتحال تھی ہم سوچ رہے تھے کہ ہم بطور فیملی اب چار افراد گھر جائیں گے لیکن پھر صورتحال کی وجہ سے لگا کہ تین لوگ گھر جائیں گے۔
ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ لیسی کے بچنے کے بہت کم امکانات تھے۔
سرجری کے بعد لیسی کی طبیعت آہستہ آہستہ ٹھیک ہونی شروع ہو گئی۔ لیکن انھیں 13 برس کی عمر میں مزید سرجری کی ضرورت پڑے گی۔
فروری 2018 کو انھیں 111 دن تک ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد چھٹی ملی تھی۔
زاہد مختار جو بچوں کے امراض کے ماہر ہیں اسی ہسپتال میں کام کرتے ہیں نے کہا کہ انھیں آگے بھی ڈاکٹر سے مشورے اور علاج کے لیے آنا ہو گا لیکن ساتھ ہی روزمرہ کی نارمل روٹین کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے اور یہ زبردست خبر ہے۔
ہیپی برتھ ڈے لیسی، معجزانہ بچی۔
اب یہ خاندان اپنے گھر میں لیسی اور پانچ سالہ بیٹے ایلفے کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ لیسی کی والدہ کہتی ہیں کہ ہسپتال میں گزرے چار ماہ بہت مشکل تھے۔ جب وہ تین گھنٹے کا طوی سفر کر کے اسے دیکھنے کے لیے ہسپتال آتی تھیں لیکن انھیں یہ بھروسہ تھا کہ ان کی بیٹی محفوظ ہاتھوں میں ہے۔
‘میری بیٹی آج اپنی پہلی ساگرہ نہ منا رہی ہوتی اگر وہ سینٹ جارج کے ہسپتال میں نہ ہوتی۔’
ہم جس لمحے یہاں آئے اس سے لے کر اب تک جو خیال رکھا گیا وہ غیر معمولی تھا اور میں اس میں کوئی بھی نقص نہیں نکال سکتی۔

یہ بھی پڑھیں

سائنسدانوں, نے ,وائی فائی سگنلز کو بجلی کی شکل, میں بدلنے کا دعویٰ, کیا ہے

سائنسدانوں نے وائی فائی سگنلز کو بجلی کی شکل میں بدلنے کا دعویٰ کیا ہے

امریکہ: میساچوسٹس انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں نے ایسی مشین تیار کی ہے جو وائی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے