توہینِ اسلام‘ کے الزام میں گرفتار

نامیوی، جن کا اصل نام وی مینگ چی ہے، کو اتوار کے روز حراست میں لیا گیا۔

ان کے ایک گانے ’او مائی گاڈ‘ کی ویڈیو میں انھیں ملیشیا میں مقدس مقامات کے آگے کھڑے ہو کر گاتے دکھایا گیا ہے۔ یہ ویڈیو جولائی میں نشر کی گئی تھی۔

نامیوی، جن کی موسیقی گالیوں سے لبریز ہوتی ہے، کہتے ہیں کہ او مائی گاڈ کا مقصد مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔

نامیوی نے پانچ برس قبل مقبولیت حاصل کی تھی۔ وہ چینی زبان میں گاتے ہیں اور چین اور تائیوان میں بھی مقبول ہیں۔

وہ اکثر تنازعات کی زد میں رہتے ہیں۔ ایک ویڈیو میں وہ لوڈشیڈنگ کے معاملے پر ملیشیا کے بجلی کے محکمے پر سوال اٹھاتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک اور ویڈیو میں انھوں نے ملیشیا کے قومی ترانے کی پیروڈی کی تھی، جس پر وہ جیل جاتے جاتے بچے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف کئی غیرسرکاری اداروں نے شکایات درج کروائی ہیں۔ اس سے قبل پولیس نے کہا تھا کہ وہ او مائی گاڈ کے سلسلے میں تفتیش کر رہی ہے۔

او مائی گاڈ کی ویڈیو میں نامیوی اور ان کے تین ساتھی بدھ اور تاؤ معبدوں، ایک چرچ اور پھر ایک مسجد کے باہر گاتے دکھائے گئے ہیں۔ تاہم 20 اگست کو یو ٹیوب پر ایک ورژن اپ لوڈ کیا گیا جس میں مسجد والا حصہ نہیں دکھایا گیا۔

نامیوی نے اپنے دفاع میں بھی ایک ویڈیو اپ لوڈ کی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ او مائی گاڈ کا مقصد مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

پریانکا چوپڑا کو نفرتیں پھیلانے کے بجائے امن کا درس دینا چاہیے

اداکارہ مہوش حیات نے کہا کہ پریانکا چوپڑا کو پاکستان اور بھارت میں نفرتیں پھیلانے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے