ترکی کی ایک مسجد میں نمازی 37 سال تک غلط سمت میں نماز ادا کرتے رہے

ترکی کی ایک مسجد میں نمازی 37 سال تک غلط سمت میں نماز ادا کرتے رہے

انقرہ: ترکی کی ایک مسجد میں نمازی 37 سال تک غلط سمت میں نماز ادا کرتے رہے، جس کی نشاندہی نئے امام نے کی۔ 

ترک میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ 1981 میں مغربی صوبے یالووا کے علاقے سگورین میں واقع ایک مسجد کے محراب کی تعمیر کے دوران غلطی ہوئی، جس کے باعث خانہ کعبہ کی سمت غلط ہوگئی۔

رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال تعینات ہونے والے نئے امام عیسٰی کایا نے اس غلطی کو نوٹ کیا اور مقامی مفتی سے مشورہ لینے کا فیصلہ کیا۔

جس کے بعد حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس مسجد کی تعمیر کے وقت اس کی محراب بنانے میں غلطی ہوئی ہے۔

بعدازاں محراب کو توڑنے کے بجائے امام نے فیصلہ کیا کہ مسجد کے قالین پر سفید رنگ کے ٹیپ سے درست سمت میں تیر کے نشان بنادیئے جائیں۔

امام کی جانب سے غلطی کی نشاندہی پر لوگوں نے مثبت رائے کا اظہار کیا ہے۔

ایٹمی معاہدے کی حمایت کا اعلان

یہ بھی پڑھیں

سعودی وزیرِ خارجہ نے کشمیر کے سوال پر بھارتی صحافی کا منہ بند کرا دیا

سعودی وزیرِ خارجہ نے کشمیر کے سوال پر بھارتی صحافی کا منہ بند کرا دیا

نئی دہلی: سفارتی محاذ پر بھارت کو ایک اور دھچکا پہنچا ہے، سعودی وزیرِ خارجہ نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے