عرب دنیا کو سب, سے زیادہ, جس چیز کی, ضرورت ہے, وہ آزادیِ اظہار
ISTANBUL, TURKEY - OCTOBER 08: A man holds a poster of Saudi journalist Jamal Khashoggi during a protest organized by members of the Turkish-Arabic Media Association at the entrance to Saudi Arabia's consulate on October 8, 2018 in Istanbul, Turkey. Fears are growing over the fate of missing journalist Jamal Khashoggi after Turkish officials said they believe he was murdered inside the Saudi consulate. Saudi consulate officials have said that missing writer and Saudi critic Jamal Khashoggi went missing after leaving the consulate, however the statement directly contradicts other sources including Turkish officials. Jamal Khashoggi a Saudi writer critical of the Kingdom and a contributor to the Washington Post was living in self-imposed exile in the U.S. (Photo by Chris McGrath/Getty Images)

عرب دنیا کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ آزادیِ اظہار

واشنگٹن پوسٹ: سعودی صحافی جمال خاشقجی کا آخری کالم شائع کر دیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ عرب دنیا کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ آزادیِ اظہار ہے

 

یہ کالم انھیں خاشقجی کے مترجم کی جانب سے تین اکتوبر کو موصول ہوا تھا لیکن انھوں نے اسے ابھی تک اس لیے شائع نہیں کیا تھا کہ وہ شاید خاشقجی واپس آ جائیں لیکن اب انھیں احساس ہو گیا ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے۔
ادھر امریکہ نے ترکی سے کہا ہے کہ وہ اسے وہ ریکارڈنگ فراہم کرے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس میں ٹھوس ثبوت ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں قتل کیا گیا۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہم نے ترکی سے وہ ریکارڈنگ مانگی ہے، اگر اس کا وجود ہے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کی تردید کی وہ سعودی عرب کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
عرب ملکوں میں آزادیِ اظہار نہیں ہے، جس کی وجہ سے ان ملکوں کے باسی یا تو لاعلم رہتے ہیں یا انھیں سرکاری میڈیا کی جانب سے غلط معلومات فراہم کی جاتی ہیں
عرب سپرنگ سے امید کی کرن پھوٹی تھی کہ شاید عرب معاشرے کو آزادی ملے، لیکن یہ کرنیں جلد ہی دم توڑ گئیں بلکہ اندھیرا اور گہرا ہو گیا
میڈیا کے خلاف کریک ڈاؤن سے بین الاقوامی برادری کی جانب سے کوئی ردِعمل بھی دیکھنے میں نہیں آتا، جس کی وجہ سے عرب ملکوں نے میڈیا کو لگام ڈالنے کے عمل کو تیز تر کر دیا ہے، کیوں کہ ان ریاستوں کا وجود ہی معلومات کنٹرول کرنے پر منحصر ہے
قطر اور تیونس اس صحرا میں نخلستان کی طرح ہیں جہاں بین الاقوامی کوریج دی جاتی ہے مگر یہاں بھی عرب دنیا کے متنازع معاملات پر مکالمہ نہیں ہوتا
عرب دنیا بھی اسی طرح کے آہنی پردے کے پیچھے قید ہے جو سرد جنگ کے زمانے میں کمیونسٹ یورپ پر طاری تھا
عرب دنیا کو ریڈیو فری یورپ کی طرز کے کسی ادارے کی ضرورت ہے
بین الاقوامی میڈیا کسی حد تک کوریج کرتا ہے لیکن عربوں کو خود ان کی زبان میں آزاد میڈیا کی ضرورت ہے
ہمیں ان عرب آوازوں کو پلیٹ فارم مہیا کرنے کی ضرورت ہے جو پروپیگنڈا کے ذریعے نفرت پھیلانے والی قوم پرست حکومتوں کے تسلط سے آزاد ہوں

خاشقجی کو آخری مرتبہ استنبول میں سعودی قونصل خانے میں دو ہفتے قبل دیکھا گیا تھا۔ ترک حکام کا دعویٰ ہے کہ جمال خاشقجی کو سعودی قونصل خانے میں قتل کیا گیا ہے، جبکہ سعودی حکام تاحال اس الزام کو مسترد کرتے آئے ہیں۔
ترک سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ انھیں مزید شواہد ملے ہیں کہ صحافی جمال خاشقجی کو قتل کیا گیا ہے۔
ترک میڈیا نے خبر دی ہے کہ ایسی آڈیو ریکارڈنگ موجود ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ خاشقجی کو انتہائی سفاکانہ طریقے سے قتل کیا گیا۔
ایک ترک اخبار کے مطابق ریکارڈنگ میں سعودی قونصل جنرل محمد العتیبی کی آواز بھی سنی جا سکتی ہے۔ اخبار ینی سفک نے لکھا ہے کہ ریکارڈنگ میں العتیبی کہہ رہے ہیں کہ ‘یہ کام باہر جا کر کرو۔ تم مجھے بھی مشکل میں ڈال دو گے۔’
العتیبی منگل کو استنبول سے ریاض واپس چلے گئے تھے۔
سعودی عرب واشنگٹن کا ایک اہم اور قریبی اتحادی رہا ہے تاہم جمال خاشقجی کی گمشدگی نے ٹرمپ انتظامیہ کو مشکل صورت حال سے دوچار کر دیا ہے۔
امریکی صدر نے ترکی سے ریکارڈنگ مانگنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ’میں اس حوالے سے پر اعتماد نہیں ہوں کہ آیا ریکارڈنگ موجود ہے، شاید ہے، شاید نہیں۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انھیں اس حوالے سے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی رپورٹ کی توقع ہے جو اس وقت سعودی عرب اور ترکی میں موجود ہیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا ’اس ہفتے کے اختتام تک سچ سامنے آ جائے گا۔‘
انھوں نے اس بات کو مسترد کر دیا کہ وہ سعودی عرب کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں ’نہیں، قطعی نہیں، میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ہو کیا رہا ہے۔‘
اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بدھ کو سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کے معاملے پر ترک صدر رجب طیب اردوغان سے ملاقات کی۔
دوسری جانب سعودی عرب ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور سعودی حکام کا کہنا ہے کہ جمال خاشقجی کو قتل نہیں کیا گیا اور وہ عمارت سے نکل گئے تھے۔
امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات کے بارے میں ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوشوغلو نے کہا ہے کہ ’یہ ملاقات فائدہ مند اور باثمر رہی ہے۔‘
منگل کو امریکی وزیر خارجہ نے ریاض میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بھی ملاقات کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی سربراہان جمال خاشقجی کی گمشدگی میں ملوث ہونے کی ’شدید مذمت‘ کرتے ہیں۔
اسی معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس بات سے مکمل لاعلمی کا اظہار کیا ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کے ساتھ کیا ہوا۔
جمال خاشقجی کے لاپتہ ہونے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر یہ ثابت ہوا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی موت میں سعودی عرب کا ہاتھ ہے تو وہ اسے ‘سخت سزا’ دیں گے۔
تاہم دو دن پہلے انھوں نے اپنے سخت موقف میں ‘نرمی’ لاتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی حکومت اس بات سے بالکل لاعلم ہے کہ خاشقجی کے ساتھ کیا ہوا اور اس کے ساتھ ہی امریکی وزیر خارجہ اس معاملے پر بات کرنے کے لیے سعودی عرب کا دورہ کیا۔
تحقیات کے دوران ترکی میں سعودی قونصل خانے کی 200 میٹر دور واقع رہائش گاہ کی بھی تلاشی لی۔
خاشقجی کی گمشدگی کے روز کئی سعودی سفارتی گاڑیاں قونصل خانے کی عمارت سے نکل کر رہائش گاہ کی طرف گئیں۔
روئٹرز نے ایک ترک اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ انھیں قتل سے متعلق ‘ٹھوس شواہد ‘ ملے ہیں تاہم کوئی حتمی ثبوت نہیں ملا۔
ترک حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس صوتی ثبوت موجود ہیں جن سے خاشقجی کے قتل کے اشارے ملتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

سعودی وزیرِ خارجہ نے کشمیر کے سوال پر بھارتی صحافی کا منہ بند کرا دیا

سعودی وزیرِ خارجہ نے کشمیر کے سوال پر بھارتی صحافی کا منہ بند کرا دیا

نئی دہلی: سفارتی محاذ پر بھارت کو ایک اور دھچکا پہنچا ہے، سعودی وزیرِ خارجہ نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے