سعودی عرب کی امریکہ کو دھمکی کیا واقعی کام کر گئی

امریکی کردار کی بات کی جائے تو اس کے ساتھ کہیں نہ کہیں سعودی عرب کا ذکر ضرور ہوتا ہے اور اس کی وجہ دونوں کے خطے میں ایک دوسرے سے مفادات سے جڑا 70 سالہ اتحاد ہے

لیکن رواں ماہ ایسا دوسری بار ہوا ہے کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے بارے میں بات کرنے کے لیے اعلیٰ سفارتی دوروں کی بجائے میڈیا کے ذریعے بیانات تھے جس نے بظاہر تعلقات میں سرد مہری پیدا کی۔
اس ماہ کے شروع میں صدر ٹرمپ نے سعودی حکمران شاہ سلمان کو تنبیہ کی تھی کہ وہ امریکی فوج کی حمایت کے بغیر ‘دو ہفتے’ بھی اقتدار میں نہیں سکتے جس کے جواب میں سعودی ولی عہد نے کہا تھا کہ ان کے ملک کا وجود امریکہ کے بغیر بھی رہا ہے۔
لیکن اس بار سعودی نژاد امریکی شہری اور صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کا معاملہ زیادہ سنگین ہے کیونکہ اس بار معاملہ سعودی بادشاہ اور صدر ٹرمپ کے درمیان نہیں رہا بلکہ یہ ایک سفارتی تنازع بن گیا ہے جس میں امریکہ کے اندر سے دباؤ آ رہا ہے اور اقوام متحدہ کے ساتھ دیگر یورپی ممالک بھی سعودی عرب پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
جمال خاشقجی گذشتہ ہفتے استنبول میں سعودی قونصلیٹ میں جانے کے بعد سے لاپتہ ہیں اور اس کے بعد سے سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان کئی رابطے ہوئے ہیں جس میں دھمکی آمیز بیانات تو کبھی معاملے کو سلیقے سے سلجھانے کی اشارے ملے۔
جمال خاشقجی کے لاپتہ ہونے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر یہ ثابت ہوا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی موت میں سعودی عرب کا ہاتھ ہے تو وہ اسے ‘سخت سزا’ دیں گے۔
اس کے جواب میں سعودی عرب نے بھی جوابی کارروائی کی دھمکی دی جس میں میڈیا کے ذریعے اطلاعات سامنے آئے کہ سعودی عرب ممکنہ طور پر تیل کی ترسیل روک سکتا ہے جس سے قیمتوں میں دگنا سے بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ سٹریٹیجک اعتبار سے اہم علاقے تبوک میں روس کو اڈہ دینے پر تیار ہو سکتا ہے، ایران سے بات چیت شروع کر سکتا ہے اور سب سے بڑھ کر امریکہ سے اسلحے کی خریداری روک سکتا ہے۔
امریکی اسلحے کے سب سے زیادہ خریدار مشرق وسطیٰ میں ہیں اور اسلحے کا مجموعی طور پر سب سے بڑا گاہک سعودی عرب ہے۔
سعودی عرب کے سرکاری ذرائع کی جانب سے جوابی دھمکیوں کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے شاہ سلمان کے ساتھ فون پر بات کی جس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ جمال خاشقجی کی گشمدگی کے پیچھے کچھ ‘بدمعاش قاتل’ بھی ہو سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے دو دن پہلے کے سخت موقف میں ’ نرمی‘ لاتے ہوئے کہا کہ سعودی حکومت اس بات سے بالکل لاعلم ہے کہ خاشقجی کے ساتھ کیا ہوا اور اس کے ساتھ ہی امریکی وزیر خارجہ اس معاملے پر بات کرنے کے لیے سعودی عرب کا دورہ کیا۔
اس پر ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا کہ نفسیات جنگ کا اصول ہوتا ہے اور میڈیا پر بیانات کے ذریعے مخالف کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں اور اپنی عوام کا حوصلہ بڑھاتے ہیں اور اسی وجہ سے سفارتی تعلقات میں بالخصوص بڑی طاقتوں کی سیاست میں ایسے بیانات کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے۔
ڈاکٹر مہدی حسن نے میڈیا کے ذریعے ایک دوسرے پر نفسیاتی دباؤ کی بات تو پاکستان کے سابق سینئیر سفارت عبدل باسط نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی معاملات کی بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور سعودی عرب کو ایک دوسرے سے اہم تعلقات کی بڑی اہمیت کا احساس ہے اور اسی وجہ سے صدر ٹرمپ نے شاہ سلمان سے بات کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگر امریکہ سعودی عرب کو آئندہ آنے والے سالوں میں 120 ارب ڈالر کے ہتھیار فروخت کر رہا ہے تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ تجارت اور دفاع کے معاشی مفادات اہم ہیں۔
عبدل باسط کے مطابق خطے کی صورتحال میں سعودی عرب کا اہم کردار ہے اور اس وقت جب امریکہ کے ایران سے جوہری معاہدہ ختم ہونے کے بعد معاملات خراب ہیں تو امریکہ نہیں چاہے گا کہ سعودی عرب کے ساتھ اس کے تعلقات اس نہج پر پہنچ جائیں۔ دوسری جانب سعودی عرب کو بھی اس کا بخوبی علم ہے کہ اگر امریکہ کی تیل کی ترسیل میں دلچسپی تھوڑی کم ہو بھی گئی ہے لیکن دوسرے سیاسی اور سٹریٹیجکل مفادات ہیں وہ برقرار ہیں۔
اس پر ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ سعودی عرب کی حکومت نے امریکہ کے کسی بیان کے خلاف کھل کر سٹینڈ لیا اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی پالیسی میں کچھ تبدیلی آ رہی ہے۔
کیا اس کی ایک وجہ سعودی عرب کی روس سے تعلقات میں بہتری کی کوششیں بھی ایک وجہ ہے تو اس پر ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا کہ سرد جنگ کے خاتمے کے طویل عرصے کے بعد وہ ملک جو روس سے دور تھے وہ اب اس سے تعلقات استوار کر رہے ہیں جس میں سعودی عرب بھی شامل ہے اور اگر مثال کے طور پر پاکستان کی بات کی جائے تو وہ امریکہ کے لیے کلائنٹ سٹیٹ کے طور پر کام کرتا تھا لیکن اب ایسا نہیں اور وہ روس کی جانب بھی دیکھ رہا ہے۔
امریکہ کے، انسٹیٹیوٹ آف پیس سٹڈیز میں، جنوبی ایشیا کے امور کے مشیر معید یوسف کا کہنا ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کا معاملہ ایک بڑا سفارتی مسئلہ بن گیا ہے اور لگتا ہے کہ یہ آسانی سے حل ہونے والا نہیں ہے کیونکہ اسے حل کرنا کافی مشکل ہے۔
تاہم انھوں نے کہا کہ لگتا نہیں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خراب ہو جائیں گے لیکن اس کے ساتھ امریکہ نے سعودی عرب پر دباؤ ڈالا ہے جس کی وجہ سے معاملہ اس طرف جا رہا ہے جس میں سعودی عرب کو اب کچھ نہ کچھ تسلیم کرنا پڑے گا۔
اس پر سفارت کار عبدل باسط کے مطابق امریکہ میں آئندہ ماہ وسط مدتی انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور اس موقع پر صدر ٹرمپ دکھانا چاہتے ہیں کہ ان کا سعودی عرب کے ساتھ رویہ نرم نہیں ہیں کیونکہ امریکی سیاست میں یہ بڑا اہم مرحلہ ہوتا ہے جس میں صدر ٹرمپ اپنے معاشی ایجنڈے کے تناظر میں شاہ سلمان سے ٹیلی فون پر بات کو اپنے حق میں استعمال کیا کہ شاہ سلمان نے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
اس معید یوسف نے بھی اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ جمال خاشقجی امریکی شہری تھی اور ترکی کے بیانات سے لگتا ہے کہ ان کے پاس کافی شواہد ہیں جبکہ دوسری جانب امریکی کانگریس کے ارکان نے اس کو اٹھایا ہے اور اس پر اعلامیہ جاری کیا ہے جس کی وجہ سے امریکہ کے لیے بھی اس کو حل کرنا آسان نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ انسانی حقوق کا بڑا معاملہ بن گیا ہے اور جس کسی نے بھی اس کو کروایا ہے اس کے خیال میں نہیں تھا کہ یہ معاملہ کتنا بڑا بن جائے گا۔
انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹیڈیز میں مشرق وسطیٰ کے امور پر کرنے والی آرحمہ صدیقی بھی اس صدر ٹرمپ کے سخت رویے کو کانگریس اور میڈیا کے دباؤ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ دونوں ممالک کے خطے میں مشترکہ مفادات کی وجہ سے یہ ممکن دکھائی نہیں دیتا کہ’طلاق ہو گی اور یہ صرف تڑی ہے۔‘
انھوں نے’ کیونکہ یہ کہا جاتا ہے کہ امریکہ اسرائیل کو نہیں بلکہ اسرائیل امریکہ کو کنٹرول کرتا ہے اور خطے میں ایران کی وجہ سے امریکہ کو سعودی عرب کی صورت میں اتحادی چاہیے جسے وہ کھونا نہیں چاہتا۔

یہ بھی پڑھیں

پرانے کپڑے

میم آپ اپنے پرانے کپڑے کس کو دیتی ہیں میں تحریر: زینب بخاری میری کلاس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے