جرمنی میں برقعے کی کوئی جگہ نہیں

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ برقعے کی جرمن معاشرے میں کوئی جگہ نہیں اور معاشرتی ہم آہنگی کے لیے چہرے کا نظر آنا ضروری ہے۔ان کی اس تجویز سے سکولوں، یونیورسٹیوں، نرسریوں، حکومتی محکموں اور گاڑی چلاتے ہوئے کوئی بھی برقع نہیں پہن سکے گا۔وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ مکمل برقعے کو مسترد کرتے ہیں، نہ صرف برقعے کو بلکہ کسی بھی قسم کے پردے کو جس میں صرف آنکھیں نظر آتی ہوں۔ اس کی ہمارے معاشرے میں جگہ نہیں۔ چہرہ دکھانا گفتگو کرنے کا ایک آئینی جزو ہے ،جو بھی حکومتی اداروں میں کام کرنا چاہتا ہے وہ برقعے میں کام نہیں کر سکتا۔جرمنی میں برقع پہننے والی خواتین کے کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں ہیں لیکن جرمنی میں مسلمانوں کی مرکزی کونسل کے سربراہ ایمن میزئیک نے کہا ہے کہ خواتین عام طور پر برقع نہیں پہنتیں۔2009 میں ایک تحقیق میں سامنے آیا تھا کہ جرمنی میں دو تہائی سے زائد مسلمان خواتین سروں پر سکارف یا دوپٹہ تک نہیں لیتیں۔

یہ بھی پڑھیں

اقوام متحدہ کو کشمیریوں کو بچانے کیلئے آگے آنا ہوگا، شاہ محمود کا یواین سربراہ کو فون

اقوام متحدہ کو کشمیریوں کو بچانے کیلئے آگے آنا ہوگا، شاہ محمود کا یواین سربراہ کو فون

اسلام آباد: بھارت کے زیر قبضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے