جمال خاشقجی, ایپل واچ, پر ان کے ساتھ جو برتاؤ, بھی, کیا گیا وہ, ریکارڈ کیا

جمال خاشقجی ایپل واچ پر ان کے ساتھ جو برتاؤ بھی کیا گیا وہ ریکارڈ کیا

جمال خاشقجی نے سعودی قونصل خانے میں داخل ہونے سے قبل اپنی ایپل واچ پر ریکارڈنگ شروع کر دی تھی۔ پھر کہا گیا ہے کہ اس ایپل واچ پر ان کی ’تفتیش، تشدد اور قتل‘ تمام ریکارڈ ہوا اور یہ ریکارڈنگ ان کے آئی فون اور ایپل کلاؤڈ پر پر بھیج دی گئی

ان کا آئی فون قونصل خانے کے باہر ان کی منگیتر کے پاس تھا۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تفتیش کاروں کو ایپل واچ نظر آئی اور پہلے انھوں نے پاس کوڈ ڈالنے کی کوشش کی اور اس میں ناکام کے بعد جمال خاشقجی کی انگلی سے واچ میں رسائی حاصل کر کے کچھ فائلز کو ضائع کیا۔
سب سے پہلے تو انگلی کے نشان سے ایپل واچ میں رسائی حاصل کرنے کے حوالے سے خبر کو رد کرتے ہیں۔ ایپل واچ میں انگلی کے نشان سے رسائی حاصل نہیں ہوتی بشرطیکہ تفتیش کاروں نے اس آئی فون کے ذریعے رسائی حاصل نہیں کی ہو جس کے ساتھ ایپل واچ پیئر کی گئی ہے۔ اور جس آئی فون کے ساتھ جمال خاشقجی کی ایپل واچ لنک تھی وہ آئی فون ان کے منگیتر کے پاس تھا جو قونصل خانے کے باہر تھیں۔
اب ایپل واچ کی ریکارڈنگ کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔ ایپل واچ میں ایسی کوئی سہولت نہیں ہے لیکن آڈیو ریکارڈنگ کے لیے کئی ایپس ہیں اور ہو سکتا ہے کہ جمال خاشقجی نے یہ ایپس اپنی ایپل واچ میں ڈاؤن لوڈ کی گئی ہوں اور قونصلیٹ میں داخل ہونے سے قبل ریکارڈنگ شروع کر دی ہو۔
لیکن اس آڈٹیو ریکارڈنگ کو اپنے آئی فون میں منتقل کرنے کے لیے جمال خاشقجی کو ’سٹاپ‘ کا بٹن دبانا ہوتا اور وہ بھی ایسے کہ ان کے تفتیش کار نہ دیکھ سکیں۔
لیکن سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ریکارڈنگ کو ان کی منگیتر کے پاس آئی فون میں بھیجنے کے لیے بلیو ٹوتھ کا ہونا ضروری تھا۔
بلیو ٹوتھ کی رینج محدود ہے۔ ہمارے نامہ نگار اپنے گھر میں ایک کمرے سے بلیو ٹوتھ کے ذریعے موسیقی دوسرے کمرے گئے تو بلیو ٹوتھ کی رینج ختم ہو گئی۔ تو یہ ایسا ہونا ممکن نہیں کہ قونصلیٹ کے اندر سے بلیو ٹوتھ کے ذریعے آڈیو فائلز باہر پڑے آئی فون تک منتقل ہو سکیں۔
کچھ لوگ جو اس پر یقین کرتے ہیں کا کہنا ہے کہ سعودی صحافی ایپل واچ 3 پہنے ہوئے تھے جس میں فون کنکشن بھی ہوتا ہے اور وہ آئی کلاؤڈ سے براہ راست لنک ہو سکتا ہے۔
یہ سچ ہے کہ جمال خاشقجی کی وہ تصویر جس میں وہ سعودی قونصل خانے میں داخل ہو رہے ہیں اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ ایپل واچ 3 پہنے ہوئے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ جمال خاشقجی نے یہ ایپل واچ 3 امریکہ میں خریدی ہو جہاں وہ رہتے تھے۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آپ ایپل واچ کے ساتھ رومنگ پر نہیں ہو سکتے۔ تعنی کہ وہ جیسے ہی ترکی میں لینڈ کیے ان کی ایپل واچ آئی فون کے کنکشن پر انحصار کرنے لگی۔ انھوں نے ہو سکتا ہے کہ مقامی سم لے لی ہو لیکن ایسک سال قبل جب ایپل سے ترکی میں ایپل واچ کے استعمال کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا ’اس وقت ایپل واچ 3 سیریز میں تین اقسام ہیں اور اس وقت کوئی بھی قسم ترکی کی موبائل کمپنیوں کے ساتھ منسلک نہیں۔‘
اس حوالے سے اطلاعات کے مطابق صورتحال تبدیل نہیں ہوئی یعنی کہ استنبول میں آپ اپنی ایپل واچ پر انٹرنیٹ استعمال نہیں کر سکتے جب تک کہ وہ آپ کے آیی فون سے لنک نہ ہو۔
لیکن اب تک ہمیں یہ نہیں معلوم کہ کیا ترکی کی سکیورٹی سروسز نے ایپل واچ کو ہیک کر کے اس کو کسی قسم کا ریلارڈنگ کا آلہ بنا لیا ہے یا نہیں جس کو جمال خاشقجی کو دیا گیا۔
لیکن ایسا عین ممکن ہے کہ ترکی کی سکیورٹی سروسز سفارتکاروں پر نظر رکھنے کے لیے دوسرے طریقے استعمال کرتے ہوں گے بجائے ایپ واچ پر انحصار کرنے کے۔

یہ بھی پڑھیں

مقبوضہ کشمیر میں مظالم، کینیڈا کا بھارتی فوجیوں کو ویزہ دینے سے صاف انکار

مقبوضہ کشمیر میں مظالم، کینیڈا کا بھارتی فوجیوں کو ویزہ دینے سے صاف انکار

اوٹاوا: مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کے بعد کینیڈا نے سابق بھارتی فوجی افسران …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے