ایم کیو ایم کی تادمِ مرگ بھوک ہڑتال کا تیسرا روز

کارکنوں کی گرفتاریوں اور چھاپوں کے خلاف ایم کیو ایم کی بھوک ہڑتال کا تیسرا روز تھا، جس میں چار دو ایم پی اے سمیت چار افراد کی حالت غیر ہونے پر جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔

اس موقع پر ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی  کے رکن خالد مقبول صدیقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’’ ناانصافیوں پر وزیراعظم جوابدہ ہیں،جمہوری راستہ اپنایاہواہے،امیدختم ہوگئی تو پھر سڑکیں بولیں گی‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’’وزیراعظم اگر کمزور ہیں تو یہ شہر انہیں مضبوط کرنے کے لیے تیار ہے مگر انہیں اس شہر کے ساتھ اپنا رویہ صیح کرنا ہوگا، ہم نے ظلم و ستم کے بعد بھی پرامن فیصلہ کیا کیونکہ ہم پرامن جماعت ہیں اور جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں‘‘

ترجمان ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ ’’رکن رابطہ کمیٹی ذاکر قریشی کو حالت غیرہونے پر جناح اسپتال کے آئی سی یو منتقل کیا گیا تھا، لیکن انھوں نے بھوک ہڑتال ختم کرنے سے انکار کردیا جس پر انھیں دوبارہ بھوک ہڑتالی کیمپ منتقل کردیا گیا ہے‘‘۔

ترجمان ایم کیو ایم نے مزید کہا کہ ’’طبعیت خراب ہونے والوں میں دو ممبرانِ سندھ اسمبلی سیف الدین خالد  اور یوسف شہوانی بھی شامل ہیں، جنہیں عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا ہے‘‘

یہ بھی پڑھیں

قائم علی شاہ کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور

قائم علی شاہ کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) رہنما کی ضمانت 29 اگست تک کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے