ایف آئی اے کے اہلکار گلالئی اسماعیل, کو ہوائی اڈے سے, اپنے, ساتھ ہیڈکوارٹر, لے گئے

ایف آئی اے کے اہلکار گلالئی اسماعیل کو ہوائی اڈے سے اپنے ساتھ ہیڈکوارٹر لے گئے

اسلام آباد: نوجوانوں اور خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم سماجی کارکن گلالئی اسماعیل کی برطانیہ سے وطن واپسی پر ایف آئی اے کے حکام نے ان سے پوچھ گچھ کی ہے

ایف آئی اے کے اہلکار گلالئی اسماعیل کو ہوائی اڈے سے اپنے ساتھ ہیڈکوارٹر لے گئے جہاں ان سے دو گھنٹے سے زیادہ عرصے تک پوچھ گچھ کی گئی۔
ایف آئی اے کے ذرائع نےبتایا کہ تفتیش کے بعد گلالئی کو جانے کی اجازت دے دی گئی ہے تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ پوچھ گچھ کس سلسلے میں کی گئی۔
تاہم گلالئی کے والد نےبتایا کہ وہ اپنی بیٹی کے ہمراہ ایف آئی اے ہیڈکوارٹر میں ہی موجود ہیں اور صوابی سے پولیس ان کی بیٹی کو حراست میں لینے آ رہی ہے جہاں گلالئی کے خلاف ایک ایف آئی آر درج ہے۔
یہ مقدمہ رواں برس ستمبر میں صوابی میں پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسے کے بعد درج کیا گیا تھا اور اس میں ان کے علاوہ رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ سمیت پی ٹی ایم کے متعدد حمایتی اور رہنما بھی نامزد ہیں۔
گلالئی بھی پشتون تحفظ موومنٹ کی بھی سرگرم حمایتی ہیں اور وہ باقاعدگی سے تحریک کے جلسوں میں شرکت بھی کرتی رہی ہیں۔ انھیں حراست میں لیے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی ردعمل سامنے آیا ہے اور پی ٹی ایم کے حمایتیوں اور سماجی کارکنوں نے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
گلالئی اسماعیل ڈیڑھ دہائی سے زیادہ عرصے سے پاکستان میں نوجوانوں خصوصاً لڑکیوں کے حقوق کے لیے سرگرم ہیں اور انھیں 2015 میں دولتِ مشترکہ کے یوتھ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔ اس سے قبل 2014 میں انھیں انٹرنیشنل ہیومنسٹ ایوارڈ بھی ملا تھا۔
گلالئی اسماعیل نے 16 سال کی عمر میں ‘اویئر گرلز’ نامی غیر سرکاری تنظیم کی بنیاد رکھی تھی تاکہ نوجوان لڑکیوں کو اُن کے حقوق کے بارے میں آگاہی فراہم کی جا سکے۔
2013 میں انھوں نے ایک سو خواتین پر ایک ٹیم بھی تشکیل دی جس نے گھریلو تشدد اور کم عمری کی شادیوں جیسے معاملات پر کام کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں

صدر مملکت نے چاروں گورنر اورعلماء کی ویڈیو کانفر نس آج

صدر مملکت نے چاروں گورنر اورعلماء کی ویڈیو کانفر نس آج

اسلام آباد: حکومت نے مساجد کیلئے ایس اوپیز کا از سرنو جائزہ لینے کا فیصلہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے