محققین نے دنیا میں افلاس زدہ علاقوں کی پیشن گوئی

سائنس دانوں کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں مقامی آمدنی کے حوالے سے قابلِ اعتماد ڈیٹا کی کمی ہے جس سے ایسے مسائل سے نمٹنے کی کوششوں میں رکاوٹیں آتی ہیں۔

سٹینڈفورڈ یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے افریقہ کے پانچ ممالک میں سیٹلائٹ کے ذریعے افلاس ذدہ علاقوں کی شناخت کے لیے ایک کمپیوٹر سسٹم کو ٹرین کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

اس سے متعلق نتائج سائنس کے جریدے میں شائع کیے گئے ہیں۔

نیل زاں، ماشل برکی اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ یہ تکنیک ترقی پذیر ممالک میں غربت زدہ علاقوں کی نشاندہی کرنے اور اس کے خاتمے کی کوشش کو پوری طرح سے تبدیل کر کے رکھ سکتی ہے۔

سٹینڈفورڈ یونیورسٹی میں کرہ ارض کے نظام کے ماہر ڈاکٹر برکی کا کہنا ہے کہ عالمی بینک، جو غربت سے متعلق ڈیٹا اپنے پاس رکھتا ہے، کے مطابق ہر شخص جو یومیہ ایک ڈالر سے بھی کم پر گزارا کرتا ہے وہ غریب ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’ہم روایتی طور پر غربت سے متعلق ڈیٹا گھروں میں جا کر سروے کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔ اس کے لیے ہم اعداد و شمار جمع کرنے والوں کوگھر پر بھیجتے ہیں اور ان کی آمدنی اور خرچ سے متعلق طرح طرح کے سوالات پوچھتے ہیں، انھوں نے گذشتہ برس کیا خریدا وغیرہ اور اس ڈیٹا کی بنیاد پر ہم غربت سے متعلق اپنی حکمت عملی اپناتے ہیں۔‘

اس طرح کے سروے کرنے کا عمل ایک تو کافی مہنگا ہوتا ہے دوسرے مناسب وقت پر بہت کم ہی ہو پاتا ہے اور بعض علاقوں، جیسے متنازع خطوں، پر تو اسے کیا ہی نہیں جاتا ہے۔ تو ترقی پذیر ممالک میں غربت اور افلاس سے متعلق ڈیٹا حاصل کرنے اور اس کے لیے اقدامات کرنے کے لیے دوسرے جدید طریقوں کو اپنانے کی ضرورت ہے جس سے آمدنی اور خرچ کا صحیح تخمینہ لگایا جا سکے۔

اسی وجہ سے غربت کی میپنگ سیٹلائٹ کے ذریعے کرنے کا منصوبہ پیش کیا گيا۔ تاہم یہ نظریہ بھی نیا نہیں ہے کیونکہ ماضی میں رات کے وقت جن جگہوں پر لائٹیں جلتی ہیں اس خاص علاقے کی خلا سے لی گئی تصاویر کی مدد سے اس طرح کے ڈیٹا کو تیار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن ماہرین کے مطابق اس میں بھی بہت سی خامیاں پائی جاتی ہیں۔

اس نئے نظام کے تحت دن کی روشنی میں خلا سے تصاویر لی جاتی ہیں جس سے وہاں تعمیر ہونے والے پکّے راستوں اور دھات کی چھتوں کو دیکھا جا سکتا ہے اور اس سے ترقی پذیر ممالک کے ان متعقلہ علاقے میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کا جائزہ آسانی سے لیا جا سکتا ہے۔

اسی فارمولے کے تحت اس ٹیم نے کام کیا اور پانچ افریقی ممالک کے بعض مخصوص علاقوں کی دن کے وقت سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر کا جائزہ لیا۔

 

یہ بھی پڑھیں

کہیں آپ کے بچے بھی موبائل یا ٹیبلٹ کا استعمال تو نہیں کرتے؟

کہیں آپ کے بچے بھی موبائل یا ٹیبلٹ کا استعمال تو نہیں کرتے؟

ماہرین نے 2 سال سے کم عمر کے بچوں کے والدین کو متنبہ کیا ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے