سیکریٹری صحت سندھ ,کی رپورٹ, ناقابل قبول, قرار

سیکریٹری صحت سندھ کی رپورٹ ناقابل قبول قرار

اسلام آباد:چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے تھر میں غذائی قلت سے بچوں کی ہلاکت سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی

سیکریٹری صحت سندھ نے عدالت کو بتایا کہ رواں سال کُل 486 بچوں کی اموات ہوئیں جن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں مٹھی میں ہوئیں، ہلاک ہونے والوں میں نوزائیدہ بچوں کی تعداد زیادہ تھی۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ماں کی صحت ٹھیک نہیں ہے جبکہ بچوں کی پیدائش میں وقفہ بھی کم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کمیونٹی ہیلتھ ورکرز صرف 40 فیصد علاقے کو کور کرتی ہیں، جن علاقوں میں کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کام کر رہی ہیں وہاں پر اموات کم ہے اور ماؤں کی صحت بہتر ہے۔
چیف جسٹس نے سیکریٹری صحت سے سوال کیا کہ اس معاملے کو حل کرنے کے لیے آپ نے کیا کیا ہے، جو اقدمات اٹھائے گئے ہیں ہمیں بتائیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ تھر میں کتنے عرصے سے ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔
سیکریٹری صحت نے بتایا کہ گزشتہ 4 سال سے بچوں کی اموات ہو رہی ہیں۔
سماعت کے دوران رکن قومی اسمبلی رمیشن کمار نے تھر میں غیر انسانی حالات کی وجہ کرپشن کو قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ 450 کروڑ روپے کی لاگت سے کوئلے سے بجلی بنانے کا منصوبہ ناکام ہوا، تھر وہ علاقہ ہے جہاں پورے ملک میں ملنے والا ہر نشہ ملے گا۔
چیف جسٹس نے تھر سے متعلق صوبائی حکومت کی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے اٹارنی جنرل سے تجاویزمانگیں تو اٹارنی جنرل نے ڈاکٹر کی ٹیم تشکیل دینے اور تھر کے ہسپتالوں کا آڈٹ کرانے کی تجویز دی۔
عدالت نے اٹارنی جنرل سے تحریری تجاویز مانگتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ اور دیگر متعلقہ حکام کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت 11 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کو شکست دے دی

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کو شکست دے دی

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا تیسراکورونا ٹیسٹ منفی آگیا ، وہ 17روز تک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے