ترک صدراگر وہ چلے گئے تھے تو اسے, فوٹیج کی, مدد سے, ثابت کریں

ترک صدراگر وہ چلے گئے تھے تو اسے فوٹیج کی مدد سے ثابت کریں

ترکی :ترک صدر رجب طیب اردوان نے سعودی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ثابت کیا جائے کہ سعودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے والے لاپتہ صحافی جمال خاشقجی استنبول میں قائم سعودی قونصلیٹ سے واپس چلے گئے تھے

ترک صدر کا یہ بیان ذرائع ابلاغ میں آنے والی ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ ترک حکومت نےقونصل خانے کی تلاشی لینے کے لیے سعودی حکومت سے اجازت طلب کی ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ سے وابستہ صحافی جمال خاشقجی گزشتہ ہفتے 2 اکتوبر کو اس وقت لاپتہ ہوگئے تھے جب وہ ایک ترک خاتون سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کی غرض سے سعودی قونصل خانے میں مطلوبہ دستاویزات کے حصول کے لیے گئے تھے۔
بڈاپسٹ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر کا اس بارے میں کہنا تھا کہ قونصل حکام اپنے آپ کو یہ کہہ کر محفوظ نہیں رکھ سکتے کہ وہ قونصل خانے کی عمارت سے چلے گئے تھے، کیا آپ کے پاس کیمرے نہیں لگے ہوئے۔
ترک صدر کا مزید کہنا تھا کہ اگر وہ چلے گئے تھے تو اسے فوٹیج کی مدد سے ثابت کریں، وہ افراد جو صحافی کے بارے میں ترک حکام سے پوچھ رہے ہیں کہ وہ کہاں ہیں انہیں یہ پوچھنا چاہیے کہ ان کے ساتھ کیا ہوا۔
دوسری جانب پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر تقریباً 15 سعودی ، جن میں افسران بھی شامل تھے، 2 پروازوں سے استنبول آئے اور اس وقت وہ تمام افراد قونصل خانے میں موجود تھے جب جمال خاشقجی وہاں گئے۔
پولیس کو یقین ہے کہ صحافی کو اسی خصوصی ٹیم نے قتل کیا جو استنبول بھیجی گئی تھی اور اسی روز واپس بھی روانہ ہوگئی تھی۔
تاہم ریاض نے مذکورہ الزام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جمال خاشقجی قونصل خانے سے واپس چلے گئے تھے۔
اس سے قبل ترک ٹی وی این ٹی وی کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ترکی قونصل خانے کی تلاشی کے لیے سعودی عرب سے اجازت طلب کررہا ہے۔
یہ اقدام ترک وزارت خارجہ کی جانب سے سعودی سفیر کو صحافی کی گمشدگی پرطلب کیے جانے کے بعد سامنے آیا، جس کی ترک سفیر نے بھی تصدیق کی کہ سعودی سفارتکار کی نائب وزیر خارجہ سیدات اونال سے ملاقات ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

کرونا وائرس ٹیسٹ کے لیے گئے وقت پر دو بار نہ جانے پر تیسری بار بکنگ دو ہفتے تک نہیں ملے گی

کرونا وائرس ٹیسٹ کے لیے گئے وقت پر دو بار نہ جانے پر تیسری بار بکنگ دو ہفتے تک نہیں ملے گی

ریاض: سعودی ویب سائٹ کے مطابق سعودی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے