احتساب عدالت, میں, العزیزیہ ریفرنس کی, سماعت

احتساب عدالت میں العزیزیہ ریفرنس کی سماعت

اسلام آباد:سعودی عرب کی حکومت کو ہل میٹل یا العزیزیہ کے بارے میں غلط معلومات فراہم کیں جو سابق وزیراعظم نوازشریف کے بیٹے حسین نواز کی ملکیت تھی

جرح کے دوران نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے شارجہ کی اہلی اسٹیل مل سے جدہ تک مشینری کے اسکریپ کی منتقلی کے لیٹر آف کریڈٹ کے بارے میں تحقیقاتی افسر محبوب عالم سے پوچھا جو حسین نواز کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروایا گیا تھا۔
اس سلسلے میں سعودی سے باہمی قانونی تعاون کی درخواست میں جے آئی ٹی کی جانب سے غلط مقام کا اندراج کیا گیا اور تفتیشی افسران نے شارجہ کے بجائے دبئی سے منتقل کی جانے والی مشینری کی معلومات مانگیں۔
اس کے ساتھ انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ دستاویزات میں درج کی گئیں اشیا بھی اہلی اسٹیل ملز سے منتقل کی جانے والی ان اشیا سے مختلف تھیں جس کا لیٹر آف کریڈٹ میں ذکر کیا گیا تھا۔
تفتیشی افسر نے اس با ت کا بھی اعتراف کیا کہ انہوں نے کبھی کبھی کسی گواہ کا بیان ریکارڈ نہیں کیا نہ ہی العزیزیہ اسٹیل کمپنی اور ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ کی لاگت کا تعین کرنے کے لیے کسی کو نوٹس جاری کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ دورانِ تفتیش یہ بات میرے سامنے نہیں آئی کہ ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ کا قیام ایک دم عمل میں نہیں آیا بلکہ یہ 2014 سے 2016 کے عرصے میں مرحلہ وار قائم کی گئی۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے پانامہ پیپر اسکینڈل میں جے آئی ٹی کے ریکارڈ کردہ حسین نواز کا بیان سنا تھا اور بیان سننے کے بعد بھی یہ بات میرے علم میں نہیں آئی کہ اسٹیل مل یکمشت قائم نہیں کی گئی تھی بلکہ ابتدائی طور پر ایچ ایم ای کا آغاز ایک سکریپ پروسیسنگ پلانٹ کے طور پرکیا گیا تھا۔
دورانِ جرح محبوب عالم نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ کسی گواہ نے ان کے سامنے پیش ہو کر یہ نہیں کہا کہ نواز شریف نے 1995 سے 1999 کے دوران برطانیہ میں زیر تعلیم حسین اور حسن نواز کو روزمرہ اخراجات کے لیے رقم بھیجی تھی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ دورانِ تفتیش ان کے سامنے نواز شریف کا ایسا کوئی بینک اکاؤنٹ بھی سامنے نہیں آیا جس کے ذریعے انہوں نے کسی بھی مقصد کے لیے اپنے بیٹوں کو رقم ارسال کی ہو۔
تفتیشی افسر محبوبِ عالم نے انکشاف کیا کہ انہوں نے ایک گواہ جہانگیر احمد ، جنہوں نے نواز شریف کا ٹیکس ریکارڈ پیش کیا تھا ، کا بیان ریکارڈ کیا تھا تفتیشی افسر نے کہا کہ گواہ کسی ایسی کمپنی کا ٹیکس ریکارڈ نہیں پیش کیا جس میں نواز شریف حصے دار تھے۔
اس کے علاوہ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے ایس ای سی پی سے کسی ایسی کمپنی کی معلومات حاصل نہیں کی جس میں نواز شریف حصے دار تھے۔
گواہ کے بیان اور اس پر جرح کے بعد عدالت نے سماعت آج تک کے لیے ملتوی کردی تھی

یہ بھی پڑھیں

صدر مملکت نے چاروں گورنر اورعلماء کی ویڈیو کانفر نس آج

صدر مملکت نے چاروں گورنر اورعلماء کی ویڈیو کانفر نس آج

اسلام آباد: حکومت نے مساجد کیلئے ایس اوپیز کا از سرنو جائزہ لینے کا فیصلہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے