گردشی قرضوں کے، مسئلے کو کم، اور پاور پلانٹس، کی بندش

گردشی قرضوں کے مسئلے کو کم اور پاور پلانٹس کی بندش

اسلام آباد: تحریک انصاف کے رہنما شبلی فراز کی سربراہی میں گردشی قرضے سے متعلق سینیٹ کی خصوصی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں اس طرح کے بحران سے نمٹنے کے لیے مختصر مدتی اقدامات کا ذکر کیا

اس رپورٹ میں سخت اقدامات جیسے ریگیسیفائڈ لیکیوئڈ نیچرل گیس (آر ایل این سی) کی بنیاد پر پاور منصوبوں کو ایندھن کی فراہمی کے معاہدوں کا جائزہ لینے کی تجویز دی گئی تاکہ انہیں ’ ضروری ادائیگیوں‘ کے بجائے عام پلان پر لایا جاسکے، جس کے تحت بجلی کی پیداوار نہ کرنے کی صورت میں بھی انہیں معاوضے کی ادائیگی کی جاسکے۔
دو اہم ریگولیٹرز آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی(نیپرا) کے کردار کا بھی جائزہ لینا چاہیے اور اگر ضرورت ہو تو انہیں ضم کردینا چاہیے۔
اس رپورٹ کی کچھ تجاویز پہلے سے معلوم تھیں، جن میں درآمدی ایندھن پر انحصار کو کم کرنا اور ہائیڈروپاور اور دیگر قابل تجدید ذرائع کے مقامی وسائل کو بڑھانا کیونکہ بجلی کی 63 فیصد پیداوار فوسل ایندھن اور 55 فیصد درآمدی ایندھن سے ہوتی ہے۔
کمیٹی نے سفارش کی کہ پاور کمپنیوں کی نجکاری، بجلی کی فراہمی میں نجی شعبے کی حصہ داری اور تقسیم کار کمپنیوں کو صوبائی حکومتوں کے حوالے کیا جائے۔
اس کے علاوہ یہ بھی تجویز دی گئی کہ قابل تجدید توانائی پالیسی 2006 کو نافذ کرنے کے لیے اس میں 2 سال کے لیے توسیع کی جائے کیونکہ دسمبر 2017 میں اس کے اچانک رکنے سے اس شعبے میں سرمایہ کاری رک گئی ہے۔
کمیٹی کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت کی جانب سے نیپرا ایکٹ میں کی گئی ترامیم کو واپس لینے کا بھی کہا گیا کیونکہ انہوں نے ریگولیٹر کے چار اراکین کے اختیارات کم کرنے اور چیئرمین کو ایک ربڑ اسٹیمپ بنا کر ریگولیٹر کے آزادانہ اور پیشہ وارانہ کام پر سمجھوتا کیا تھا۔ رپورٹ میں اس بات پر کا بھی ذکر کیا گیا کہ کاروبار میں اس وقت منافع نا مکمل ہے جب پیداوار کا 25 فیصد ضائع ہوجائے اور اس عمل کو پاور سیکٹر میں تکنیکی اور تجارتی نقصان کے طور پر جانا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

صدر مملکت نے چاروں گورنر اورعلماء کی ویڈیو کانفر نس آج

صدر مملکت نے چاروں گورنر اورعلماء کی ویڈیو کانفر نس آج

اسلام آباد: حکومت نے مساجد کیلئے ایس اوپیز کا از سرنو جائزہ لینے کا فیصلہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے