,کرپٹ لوگوں ,کان ,کھول, کر, سن لو ,کسی ,کو ,نہیں چھوڑوں, گا،وزیراعظم

کرپٹ لوگوں کان کھول کر سن لو کسی کو نہیں چھوڑوں گا،وزیراعظم

لاہور:  کرپٹ لوگوں کان کھول کر سن لو کسی کو نہیں چھوڑوں گا، کوئی این آر او نہیں ہوگا، وزیراعظم

وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد لاہور میں پہلی مرتبہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہماری پہلی پالیسی کی تیاری ابتدائی مرحلے میں ہے جو 100 دن کے بعد پیش کی جائیں گی۔

پرانے بلدیاتی نظام کی خامیاں دور کرکے نیا نظام لائیں گے اور نئے بلدیاتی نظام کا مقصد نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی ہوگا۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ پنجاب کابینہ نئے نظام سے متعلق بروقت قانون سازی کرے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ن لیگ والے شہبازشریف کی گرفتاری کو سیاسی انتقام قرار دے رہے ہیں، یہ سیاسی انتقام کس طرح ہوسکتا ہے، یہ کیسز تو شہباز شریف پر 10 ماہ پرانے ہیں۔

نیب آزاد ادارہ ہے یہ تو اپوزیشن شکر ادا کرے کہ نیب میرے ماتحت نہیں، نیب میرے ماتحت ہوتا تو 50 لوگ اب تک جیل کے اندر ہوتے۔

عمران خان نے کہا کہ کل میں نے شہباز شریف کو نیلسن منڈیلا بنتے دیکھا، شہباز شریف کے ساتھ ہمدردی کرنے والوں کے نام بھی آئیں گے۔

جب ایک کرپشن پر ہاتھ ڈالا جائے تو ساری کرپشن یونین ایک ساتھ ہوجاتی ہے۔ تحریک انصاف کے خلاف ن لیگ اور پی پی والے بھائی بھائی ہوگئے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایک ہی صورت میں مہنگائی ختم ہوسکتی ہے کہ ان کرپٹ ممبران سے پیسے نکالا جائے، نیب چیئرمین کو جو تعاون چاہیے ہم تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم ملک میں ایک نیا قانون وسل بلو ایکٹ متعارف کروائیں گے جس کے تحت جو شخص حکومت میں کرپشن کی نشاندہی کرے گا اسے اس سے ریکور ہونے والی رقم کا 20 فیصد کمیشن دیا جائے گا۔

لندن تو کیا دنیا میں کہیں بھی میری کوئی جائیداد نہیں , اسحٰق ڈار

ان کا مزید کہنا تھا کہ وسل بلو ایکٹ کے ساتھ کرپشن کی اطلاع دینے والے گواہان کے تحفظ کا ایکٹ بھی متعارف کروایا جائے گا۔

 کان کھول کر سن لیں کوئی این آر او نہیں ہوگا اور عوام بے فکر ہوجائیں ہم کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑیں گے۔

پاکستان کا قرضہ 6 ہزار ارب سے بڑھ کر 28ہزار ارب روپے ہوچکا ہے،انہوں نے مزید کہا کہ جب خرچے زیادہ آمدنی کم ہو تو اس کا مطلب ہے کہ حالات برے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے باہر 9 ارب ڈالر دبئی، سعودیہ، امریکا اور برطانیہ منتقل ہوئے اور ملک سے باہر 10 ہزار سے زائدجائیدادیں پکڑی ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قرضے واپس کرنےاورمہنگائی روکنے کا ایک ہی طریقہ ہےکہ لُوٹا ہواپیسہ واپس لائیں۔

میٹرو بس کے 3 منصوبے مکمل کیے گئے جو خسارے میں جارہے ہیں اور اورنج ٹرین کے لیے قرضہ لیا گیا یہ منصوبہ بھی خسارے میں ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ نظام میں بہتری کیلئے مشکل فیصلے کرنے ہوں گے، تجاوزات کے خلاف مہم میں غریب آبادیوں کو بلاوجہ زحمت نہ دی جائے۔

سرکاری عمارتوں اور زمینوں کو مفید استعمال میں لائیں گے اور قبضہ مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

وزیرِ اعظم عمران خان ایک روزہ دورے پر لاہور پہنچ گئے جہاں انہیں پنجاب کی صورتحال اور حکومت کے 100 روزہ پلان پر ہونے والی پیش رفت سے متعلق بریف کیا گیا۔

وزیرِ اعظم عمران خان اسلام آباد سے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے گورنر ہاؤس پہنچے، جہاں سے وزیرِاعلیٰ سیکریٹریٹ گئے۔

وزیرِاعظم عمران خان نے لاہور میں صوبائی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی جہاں انہیں صوبے میں حکومتی کارکردگی سے آگاہ کیا گیا۔

اس دوران وزیرِ اعلیٰ پنجاب، صوبائی کابینہ کے اراکین کے علاوہ گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور بھی موجود تھے۔

اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم کو مختلف محکموں کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ بلدیاتی نظام سے متعلق ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں

وزیراعظم عمران خان تو کہتے ہیں ہر معاملے کی رپورٹ پبلک ہونی چاہیے

وزیراعظم عمران خان تو کہتے ہیں ہر معاملے کی رپورٹ پبلک ہونی چاہیے

لاہور: ہائیکورٹ میں پٹرول بحران اور قیمتوں میں اضافہ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے