حلب کے زخمی بچے کی تصویر پر غم و غصہ

گرد اور خون میں لپٹے ہوئے بچے کی تصویر شامی کارکنوں نے جاری کی ہے۔

بچے کی تصویر اور ویڈیو کو شوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کیا گیا ہے اور لوگ اس پر غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔

ایک ڈاکٹر نےزخمی بچے کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ بدھ کی رات پانچ سالہ اومران داگنیش کے سر میں آنے والے زخموں کا علاج کیا گیا ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ بچے کے خاندان کا کیا بنا۔

صدر بشار الاسد کی حامی افواج باغیوں کے زیر تسلط حلب کے علاقوں کو چھڑانے کی کوششوں میں مصروف ہیں جس کی وجہ سے حالیہ دنوں میں جنگ میں تیزی آئی ہے۔ بشار الاسد کی حامی افواج کو روسی فضائیہ کی مدد حاصل ہے۔

شامی باغیوں کے حامی میڈیا سنٹر نے کہا ہے کہ زخمی بچے کی تصاویر بدھ کے روز باغیوں کے زیر قبضہ علاقے قطرجی میں بنائی گئیں ہیں جہاں ایک فضائی حملے میں تین افراد ہلاک اور 12 زخمی ہو گئے تھے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ڈاکٹر گرد اور خون میں لپٹے ہوئے بچے کو تباہ شدہ عمارت سے اٹھا کر ایمبولینس کی پچھلی سیٹ پر بٹھاتا ہے۔

ڈاکٹر پھر بچے کو ایمبولینس میں چھوڑ کر چلا جاتا ہے اور خوفزدہ بچہ خاموشی سے سیٹ پر بیٹھا رہتا ہے۔ بچہ اپنا ہاتھ اپنے چہرے پر لے کر جاتا ہے اور اپنے ہاتھ کو پر خون کو دیکھتا ہے پھر اپنے ہاتھوں کو سیٹ پر ہی صاف کرتا ہے۔

اس کے بعد دو اور بچے اور ایک زخمی آدمی بھی ایمبولینس میں آ جاتے ہیں۔

حلب میں ایک ڈاکٹر اوسامہ ابو الیز نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس کو بتایا کہ اس زخمی بچے کا ایم ٹین نامی ہسپتال میں سر میں آنے والی چوٹوں کا علاج کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر نے بتایا کہ بچے کے سر میں شدید چوٹ نہیں آئی ہے اور سر میں چوٹوں کے علاج کے بعد اس ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیں

روس کا کیمیائی ہتھیاروں کی نابودی کے لیے لازمی اقدامات پر زور

روس کا کیمیائی ہتھیاروں کی نابودی کے لیے لازمی اقدامات پر زور

روس نے کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کے عالمی معاہدے کے رکن ملکوں کے درمیان تعمیری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے