Chairman of Pakistan Peoples Party Bilawal Bhutto Zardari arrives at the national assembly to attend the first session of the parliament after the general election, in Islamabad on August 13, 2018. - Pakistan's World Cup cricket hero Imran Khan who has been proposed as new PM on Monday sworn in as member of the newly elected lower house of the parliament. (Photo by FAROOQ NAEEM / AFP)

پی ٹی آئی کا کارکن بھی حکومت سے مایوس ہے، بلاول

اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے بلاول بھٹو زرداری نے گیس کی قیمتوں میں اضافے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت سے عوام ہی نہیں بلکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکن بھی مایوس ہیں۔

قومی اسمبلی میں منی بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اپنے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عوام نے نئے پاکستان کے لیے ووٹ دیا تھا اورحکومت نے اپنے ایجنڈے کا اعلان کیا تھا اب بتائیں کہ 100 دن کا ایجنڈا کہاں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا بجٹ پرانے پاکستان کا ہے، حکومت کے ضمنی بجٹ میں 100 روزہ پلان کا کوئی نام و نشان نہیں، 100 دن کا ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی کوان کے وعدے یاد دلاتے ہوئے کہا کہ وعدہ کیا گیا تھا کہ صحت کا انصاف پروگرام لایا جائے گا، غریبوں سے ریلیف کا وعدہ کیا لیکن گیس کی قمتیں بڑھا دیں۔

انہوں نے کہا کہ غریب کسان پس رہا ہے، فصل کی صحیح قیمت نہیں مل رہی اور ہمارے پاس پانی کو محفوظ رکھنے کی کوئی اسکیم نہیں ہے، نئے پاکستان کے پہلے بجٹ سے ہمیں بہت توقعات تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ منی بجٹ میں گلگت بلتستان ور بلوچستان کے عوام کے لیے کچھ نہیں ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جنوبی پنجاب والوں کو وزارتیں ملنے کے بعد صوبے کا ذکر نہیں ہو رہا۔

چیئرمین پی پی پی نے اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اٹھارویں ترمیم کو واپس لینے کی کوشش کی گئی تو پیپلز پارٹی وفاق کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے کشکول توڑنے کی بات کی تھی لیکن وزیراعظم عمران خان اپنے پہلے دورے میں سعودی عرب میں کشکول لے کر گئے اور کیا یہ درست نہیں کہ حکومت آئی ایم ایف سے مذاکرات کررہی ہے۔

بلاول نے کہا کہ ملک کو چندوں اور جادو سسے نہیں چلایا جاتا اور سیاست دوسروں سے بدزبانی کے ذریعے نہیں کی جاتی۔

انہوں نے وزیرخزانہ اسد عمر کو ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے حکومت کے اقدامات پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کی حمایت کی جارہی ہے اور ان کے ساتھ انتخابی اتحاد کیا جارہا اور وزرا جیلوں میں قید دہشت گردوں سے ملاقات کررہے ہیں جو ملک کے لیے بدنامی کا باعث ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئے پاکستان میں صحافی میڈیا کی آزادی اور سینرشپ کے خلاف احتجاج کررہے ہیں، پی ٹی آئی کو اب دھرنے اور حکومت چلانے میں فرق معلوم ہونا چاہیے اور انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ پارلیمنٹ ہے کنٹینر نہیں۔

حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت سخت فیصلے کرے اور یو ٹرن لینے سے باز رہے۔

 

یہ بھی پڑھیں

صدر مملکت نے چاروں گورنر اورعلماء کی ویڈیو کانفر نس آج

صدر مملکت نے چاروں گورنر اورعلماء کی ویڈیو کانفر نس آج

اسلام آباد: حکومت نے مساجد کیلئے ایس اوپیز کا از سرنو جائزہ لینے کا فیصلہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے