’کوشش ہے دوہری شہریت والے بھی پاکستان میں کردار ادا کریں‘

سپریم کورٹ کے جج جسٹس عمر عطا بندیال نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ ہماری کوشش ہے کہ غیر ملکی شہریت حاصل کرنے والے بھی پاکستان میں کردار ادا کریں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 7 رکنی لارجر بینچ نے اراکین پارلیمنٹ کی دوہری شہریت سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت عدالت کی جانب سے استفسار کیا گیا کہ ایک مرتبہ غیر ملکی شہریت حاصل کرنے والا پاکستان کے پارلیمان میں عوامی نمائندگی کرسکتا ہے؟

جس پرعدالتی معاون بلال منٹو نے بتایا کہ ’غیرملکی شہریت حاصل کرنا بندوق کے ٹریگر کی طرح ہے، ایک مرتبہ غیر ملکی شہریت حاصل کرنے والا کبھی بھی رکن قومی اور صوبائی اسمبلی کے لیے اہل نہیں رہتا۔

اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ہمیں اس معاملے میں اتنا سخت موقف نہیں لینا چاہیے، ہماری تو کوشش ہے کہ غیر ملکی شہریت حاصل کرنے والے بھی پاکستان میں کردار ادا کریں۔

جسٹس عمر عطا بندیال کا مزید کہنا تھا کہ اس قسم کے فیصلے سے ہم غیر ملکی شہریت حاصل کرنے والوں کو پاکستانیت سے دور کر رہے ہیں۔

دوران سماعت جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ آئین پاکستان دوہری شہریت کے معاملے میں خاموش ہے، لہٰذا ہم نے خود طے کرنا ہے۔

اس دوران سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی بہت سعدیہ عباسی کا معاملہ بھی زیر غور آیا، جس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ سعدیہ عباسی کو مقدمے میں نیا وکیل کرنا چاہیے تھا۔

بعد ازاں عدالت نے سابق وزیر اعظم کی بہن سعدیہ عباسی کو وکیل کرنے کے لیے نوٹس جاری کردیا۔

ساتھ ہی عدالت نے دوہری شہریت سے متعلق کیس میں چودہری سرور، نزہت صادق اور ہارون اختر کو بھی نوٹس دے کر تفصیلی دستاویزات اور جواب جمع کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 10 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ اس سے قبل دوہری شہریت سے متعلق کیس میں سینیٹ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے 4 سینیٹرز کی کامیابی نوٹیفکیشن روکنے کا حکم بھی دیا تھا۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے تھے کہ یہ ہیں پاکستان کے نمائندے وہاں فائدہ ہوا تو وہاں کی شہریت لے لی، یہاں کی موجیں دیکھیں تو واپس آگئے اور انتخاب سے دو دن پہلے وطن کی محبت یاد آگئی۔

یہ بھی پڑھیں

صدر مملکت نے چاروں گورنر اورعلماء کی ویڈیو کانفر نس آج

صدر مملکت نے چاروں گورنر اورعلماء کی ویڈیو کانفر نس آج

اسلام آباد: حکومت نے مساجد کیلئے ایس اوپیز کا از سرنو جائزہ لینے کا فیصلہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے