طالبان ہتھیار ڈال کر امن عمل میں شریک ہوں

واشنگٹن میں میڈیا بریفنگ سے خطاب میں ترجمان محکمہ خارجہ مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ طالبان دھڑے بندیوں اور لڑائیوں سے کمزور ہوئے ہیں اور ان کی عام شہریوں کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت کم ہوئی ہے، طالبان کو سمجھنا ہوگا طویل جنگ افغانستان کے مسائل حل نہیں کرسکتی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ داعش اور القاعدہ کی فنڈنگ روکنے کے لئے اقدامات کئے ہیں تاہم فنڈنگ مکمل طور پر ختم کرنا اب بھی بڑا چیلنج ہے۔

ترجمان محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ شام میں جارحیت روکنے کی کوشش روسی اقدامات سے مشکل ہو رہی ہے، روس کا ایرانی سرزمین استعمال کرنے سے پیدا ہونے والی صورتحال کاجائزہ لے رہے ہیں۔

گزشتہ روز امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان انسداد دہشت گردی کے لیے وسیع تر مذاکرات کے حامی ہیں اورہر سطح پر اس کی حوصلہ افزائی اور حمایت کرتے رہیں گے۔

مارک ٹونر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے لیے یہ اہم ہے کہ دہشت گردوں کو نہ صرف اندرون ملک بلکہ خطے کے دیگر ممالک میں بھی کارروائیوں سے روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے۔

یہ بھی پڑھیں

جرمنی کی, حکومت ایران کے, ساتھ بحران میں ثالثی, کا کردار, ادا کرنا, چاہتی ہے

جرمنی کی حکومت ایران کے ساتھ بحران میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتی ہے

برلن: جرمنی کی حکومت ایران کے ساتھ بحران میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے