اسلام نے متوازن زندگی گزارنے کیلئے بچت کی ترغیب دی ہے، امام حرم شیخ ڈاکٹر سعود الشریم

مسجد الحرام کے امام وخطیب شیخ ڈاکٹر سعود الشریم نے واضح کیا ہے کہ اسلام نے متوازن زندگی گزارنے کیلئے اپنے پیروکاروں کو بچت کی ترغیب دی ہے۔ جائز بچت فرد او رمعاشرے کے مفاد میں ہے۔ وہ ایمان افروز روحانی ماحول میں جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے۔ امام حرم نے کہا کہ دنیا بھر کے لوگ روزی روٹی اور ذرائع آمد سے گہرا شغف رکھتے ہیں۔ عوام الناس زندگی کے وسائل کی بابت بہت زیادہ فکر مند رہتے ہیں۔ تشویش اور بے چینی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ کنجوسی اور استحصال سے گریز نہیں کرتے۔ بعض لوگ روزگار کے حوالے سے انتہائی سنجیدہ دیگر انتہائی لاپروا کچھ لوگ اللہ پر توکل اور دیگر لوگ توکل کے نام پر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں۔ اس حوالے سے افراط و تفریط کا رواج عام ہے۔
امام حرم نے توجہ دلائی کہ ہم لوگ یہ بات مدنظر نہیں رکھتے کہ کوئی بھی نعمت ہمیشہ نہیں رہتی کبھی آتی ہے کبھی جاتی ہے۔ کبھی کشادگی ، کبھی تنگی، کبھی تلخی ، کبھی شیرینی جیسی مختلف صورتیں ، حالتیں آتی جاتی رہتی ہیں۔ اللہ کی ذات واحد ہستی ہے جس کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ امام حرم نے توجہ دلائی کہ اسلام کے پیروکاروں کا فرض ہے کہ وہ کشادگی کے عالم میں تنگی کی حالت سے نمٹنے کا اہتمام کریں۔ اسلام نے متوازن زندگی گزارنے کیلئے بچت کی ترغیب دی ہے۔ بچت سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے خصوصی اور عام اخراجات کے بعد کچھ نہ کچھ رقم پس انداز کرلے۔ بچت فرد اور معاشرے دونوں کیلئے معاشی اور اقتصادی نکتہ نظر سے انتہائی ضروری ہے۔ زندگی کی تبدیلیوں کی بابت کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ بچت احتیاط کا پہلو ہے۔ انسان کچھ رقم پس انداز رکھتا ہے تو تنگی کے عالم میں اس سے فائدہ اٹھا لیتا ہے۔ بچت نہ ہونے کی صورت میں انسان قرضہ ، بھیک، چوری ،سود اور اس طرح کے دیگر اقدامات پر مجبور ہو جاتا ہے۔

امام حرم نے کہا کہ بچت کیلئے سب سے پہلے تو انسان کو ذہنی طور پر اس کا قائل ہونا ضروری ہے۔ دوم بچت والا طرز حیات اپنانا ہوتا ہے۔ امام حرم نے خبردار کیا کہ آمدنی اور اخراجات میں عدم توازن مسائل کا باعث بنتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان روزمرہ کی بنیادی ضرورتوں ، زندگی عمدہ انداز سے گزارنے کیلئے مطلوب اشیاءو خدمات اور آسائشی زندگی کے لئے درکار غیر معمولی سہولتوں میں فرق کرے۔ بنیادی ضرورتوں کی تکمیل ہرحال میں واجب ہوتی ہے جبکہ عمدہ اور پرآسائش زندگی والا سامان حاصل کرنا غیر ضروری ہوتا ہے۔ اس حوالے سے توازن پیدا کرنا اور رکھنا ضروری ہے۔ امام الشریم نے کہا کہ اسلام نے ہمیں جس بچت کی اجازت اور ترغیب دی ہے۔ وہ ایسی بچت ہے جس میں بنیادی ضرورتوں کو نظر انداز نہ کیا جائے۔

دوسری جانب مدینہ منورہ میں مسجد نبوی شریف کے امام و خطیب شیخ عبدالباری الثبیتی نے جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ سے قربت عبادت کا جوہر ہے۔ حقیقی بندہ وہی ہوتا ہے جو اپنی عبادت، اپنی قربانی، اپنی زندگی، اپنی موت سب کو اللہ تعالیٰ کیلئے وقف کئے رکھے۔ خالص توحید کے عقیدے کے مطابق زندگی گزارے اور ہر طرح کے شرک سے پرہیز کرے۔ امام الثبیتی نے توجہ دلائی کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ہمیں اس امر پر اکسایا ہے کہ تمام مسلمان اپنے کردار و گفتار میں اللہ کی بندگی کو اپنی پہچان بنائیں۔ صرف وہی کام کریں جنہیں کرنے کا حکم دیا گیا ہو اورایسا کوئی کام نہ کریں جنہیں کرنے سے منع کیا گیا ہو۔

امام الثبیتی نے توجہ دلائی کہ تمام فرائض ، جملہ عبادات او رہر طرح کے اچھے کاموں کا ہدف اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنا ہو ، اگر ہم ایسی زندگی گزارنے لگیں تو ہماری زندگی کامیاب ہوگی۔ دنیا او رآخرت دونوں جہانوں میں ربانی نعمتیں ہمارا نصیب بنیں گی۔

یہ بھی پڑھیں

صدر رجب طیب اردوان نے فرانس کے صدر ایمانیئول میکرون’دماغی معائنہ‘ کرانے کے لیے زور دیا ہے

صدر رجب طیب اردوان نے فرانس کے صدر ایمانیئول میکرون’دماغی معائنہ‘ کرانے کے لیے زور دیا ہے

استنبول: ترک صدر رجب طلب اردوان سے سخت ردعمل دیا تھا ہفتے کو کہا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے