عمران خان کی باتیں ہوا میں

پاکپتن کے ڈی پی اوررضوان گوندل کے تبادلے کا معاملہ ابھی تھما نہیں تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب ایک مرتبہ پھر خبروں میں آگئے، وزیراعلیٰ ہاﺅس میں عثمان بزدار نے فیصل آباد، لاہور اور گوجرانوالہ ڈویژن کے افسران کو اراکین اسمبلی کے سامنے بٹھادیا اور سیاسی شخصیات کیساتھ تعاون نہ کرنے والے افسران کے تبادلوں کے فوری احکامات جاری کردیئے ۔ اراکین اسمبلی کی باتیں سن کر وزیراعلیٰ پنجاب مسکراتے رہے جبکہ پولیس افسران کا موقف تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے اراکین اسمبلی کے جائزو ناجائز ہرکام کرنے کو کہا جو نہیں کرسکتے۔
روزنامہ دنیا اورنجی ٹی وی چینل کے مطابق پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کی شکایات پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارکی سربراہی میں تین ڈویژنز کی بیوروکریسی کے الگ الگ اجلاس ہوئے، رات گئے تک لاہور ڈویژن کے پولیس اور انتظامی افسران کا اجلاس جاری تھا، ممبران اسمبلی نے وزیراعلیٰ کو شکایت کی کہ پولیس ، ڈپٹی کمشنرزیہاں تک کے ایس ایچ اوز بھی ہماری بات نہیں سنتے ، رپورٹ کچھ اور حقیقت میں کچھ اور ہوتا ہے ، ہمارے کہنے پر تبادلے بھی نہیں کئے جا تے ہیں، مارکیٹ کمیٹیوں سمیت کئی عہدوں پر تاحال پرانے افراد تعینات ہیں جنہیں فوری طورپر ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے ،گوجرانوالہ، فیصل آباد اور لاہور کے بعداراکین اسمبلی نے فوری طورپر سی سی پی او ، ڈی آئی جی ، ڈی پی او اور ڈپٹی کمشنر کو بھی تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا لیکن وزیراعلیٰ ان کے مطالبات پر مسکراتے رہے اور ساتھ ہی پنجاب کے اعلیٰ افسران کی طرف دیکھتے رہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے ڈپٹی کمشنرز، ڈی پی اوز سمیت دیگر انتظامی افسران کو ممبران اسمبلی کے معاملات فوری طورپر حل کرنے کا حکم دے دیااور یہ بھی کہہ دیا کہ ان سے روابط بھی بہتر بنائیں ورنہ ان کو تبدیل بھی کیا جا سکتا ہے۔وزیراعلی ٰپنجاب عثمان بزدار نے تمام ڈپٹی کمشنرز ، ڈی پی اوز سمیت اعلیٰ افسران کو حکم دیا ہے کہ وہ روزانہ 2گھنٹے اپنے دفتر میں کھلی کچہری لگائیں گے اور کسی کے مسائل حل نہ ہوئے توفوری طورپر سخت کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

انتہائی معتبرذرائع کے مطابق مختلف محکموں کے سیکریٹریز بھی اجلاس میں موجود تھے جنہیں موقع پر ہی مختلف افسران کے تبادلوں کے احکامات دیئے گئے ۔یہ بھی دعویٰ کیاگیاکہ وزیراعظم عمران خان کے حکم پر وزیراعلیٰ سردار عثما ن بزدار نے گزشتہ روز اہم اجلاس طلب کیاگیا۔ ایک طرف ہر ڈویژن کے ممبران اسمبلی تو دوسری جانب انتظامی افسران کو بیٹھا دیااور پھر کہا بتادیں کس کے کیا مسائل ہیں، ساتھ ہی خواتین اور مرد پی ٹی آئی ممبران اسمبلی اپنے اپنے مسائل کی نشاندہی کرتے رہے ، لاہور کے ممبران اسمبلی نے کہاکہ ایل ڈی اے ، پولیس کے افسر ہماری بات ہی نہیں سنتے ، ایک خاتو ن رکن نے کہاکہ ڈی جی ایل ڈی اے میرا فون تک نہیں سنتی ہیں، ان کو فوری طورپر تبدیل کرنے کی بھی ضروری ہے ، بعض ممبران اسمبلی نے ڈپٹی کمشنراورسی سی پی او لاہور کو بھی تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا، وزیراعلیٰ پنجاب گزشتہ روز پہلے بار ایکشن میں نظر آئے اور غصے میں کہا کہ کسی ممبران اسمبلی کی شکایات آئیں تو انتظامی افسر کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائیگا اور سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، وزیراعلیٰ نے کہاہم آپکو ایک موقع دیتے ہیں، معاملات کو درست کریں ، فیصل آباد کے ایک ایم پی اے نے کہا سکول ٹیچر ہماری بات نہیں سنتا،وزیراعلیٰ عثمان بزدار سکول ٹیچر کی بات پر مسکرائے اور کہا پیار سے بات کریں، مان جائیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک ممبر پنجاب اسمبلی نے یہ بھی کہاکہ جو بھی ترقیاتی کام ہونے ہیں ہمیں ان سے متعلق کمیٹی میں شامل کیا جائے ، اور تمام انتظامیہ کو حکم دیا جائے کہ وہ ہماری بات بھی سنیں۔ اس حوالے سے بعض پولیس افسر ان اور ڈپٹی کمشنرز نے روزنامہ ’دنیا ‘سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کچھ ممبران اسمبلی ناجائز کام کرنے کو کہتے ہیں جو کر نہیں سکتے ہیں اور آئندہ بھی ایسے کام نہیں کریں گے ، اگر کام جائز ہوا تو وہ کام کسی صورت نہیں روکا جائیگا۔ذرائع نے بتایاکہ اراکین اسمبلی کی شکایات اور وزیراعلیٰ پنجاب کے انہیں آمنے سامنے بٹھا کر تعاون کرنے اور سخت کارروائی کی تنبیہ سے بیوروکریسی اور انتظامی افسران میں بے چینی پائی جاتی ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان یہ وعدہ اور اعلانات کرچکے ہیں کہ بیوروکریسی اور پولیس کو سیاست سے پاک کریں گے اور ان کے معاملات میں کسی بھی قسم کی دخل اندازی نہیں کی جائے گی لیکن وزیراعلیٰ پنجاب نے پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کے مسائل حل کرنے کی ہدایت کی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں

رائیونڈ اجتماع گاہ میں ایک بار داخل ہونے کے بعد اختتام تک باہرجانے کی اجازت نہیں ہوگی

رائیونڈ اجتماع گاہ میں ایک بار داخل ہونے کے بعد اختتام تک باہرجانے کی اجازت نہیں ہوگی

لاہور: تبلیغی اجتماع کا پہلا مرحلہ 6 نومبر سے شروع ہوگا جو 8 نومبرتک جاری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے