کوئی مجرم الیکشن لڑسکتا ہے یا نہیں؟ بھارتی سپریم کورٹ نے تہلکہ خیز فیصلہ سنا دیا

بھارت کی سپریم کورٹ نے قراردیا ہے کہ کسی سیاستدان کوفوجداری مقدمےکی بنیادپرنااہل نہیں کیاجاسکتا،مجرمانہ مقدمات کےحامل افرادکےرکن پارلیمنٹ بننےپرکوئی پابندی نہیں تاہم عدالت نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ پارلیمنٹ اس ضمن میں قانون سازی کرے اور یقینی بنائے کہ جرائم میں ملوث افراد سیاست میں نہ آئیں، بھارت میں اس وقت1580ارکان پارلیمنٹ کےخلاف فوجداری مقدمات درج ہیں۔
مجرموں کوالیکشن لڑنےسےروکنےسےمتعلق کیس کی سماعت کے دوران بھارتی حکومت نے سماعت کے دوران موقف اپنایا تھاکہ مقننہ کےدائرہ کارمیں عدلیہ کومداخلت نہیں کرنی چاہیے،عوامی نمایندگی کاایکٹ کسی بھی امیدوارکونااہل کرنےکیلیےموجودہے،عدلیہ انتخابی عمل سےقبل پیشگی شرائط لگاکرکسی فردکےحق کومتاثرنہ کرے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق عدالت عظمیٰ نے مجرموں کا سیاست میں آنے سے روکنے کے لیے قانون سازی کی ہدایت کرتے ہوئے قراردیا ہے کہ موجودہ قانون کے مطابق کسی سیاستدان کو فوجداری مقدمے کی بنیاد پر بھی نااہل نہیں کیا جاسکتا۔ یادرہے کہ پاکستان میں سابق وزیراعظم نوازشریف کو نیب ریفرنس اور بدعنوانی کے شک پر نااہل قراردیاجاچکا ہے ۔ دوسری طرف عدالت نے جیل ریفارمز پر3 رکنی کمیٹی تشکیل دےدیجس کی سربراہی سابق جج امیتاوا رائے کریں گے۔ بھارتی سپریم کورٹ کے مطابق کمیٹی جیل ریفارمز پر اپنی تجاویز پیش کرے گی ،سرکاری حکام کارروائی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں

دنیا بھر میں کرونا وائرس انفکیشن سے اموات کی تعداد 11 لاکھ 23 ہزار سے تجاوز کر گئی

دنیا بھر میں کرونا وائرس انفکیشن سے اموات کی تعداد 11 لاکھ 23 ہزار سے تجاوز کر گئی

شنگھائی: نجی سافٹ ویئر سلوشن کمپنی کی ریفرنس ویب سائٹ ورلڈومیٹر کے اعداد و شمار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے