خورشید شاہ نے نیب کے مقدمات کو انتقامی کارروائی قرار دے دیا

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ بات سادہ ہے جب بولیں گے تو کیسز کھلیں گے، موجودہ حکومت کو دعوت دیتا ہوں میرے کیسز کی تفتیش کرے۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ اگر میرے خلاف انکوائری ہے تو وہ پارلیمنٹ کر لے، اگر کوئی کیس تھا تو تحقیقات کی جاتیں، میں اپوزیشن لیڈر رہا ہوں۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ کیسز سے متعلق میڈیا میں خبریں چلوا کر تضحیک کرنا مناسب نہیں، 30 سال سے سیاست میں ہوں اپوزیشن اور وزارتیں دیکھی ہیں۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا دعوے سے کہتا ہوں اربوں روپے میں نے سرکار کے بچائے اور آج تک کسی شخص نے انگلی نہیں اٹھائی مگر اس طرح کے کیسز بنانا افسوسناک ہے۔
اد رہے کہ نیب نے خورشید شاہ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات کا آغاز کیا ہے جس کے لیے نیب سکھر نے مختلف اداروں سے ان کے اثاثوں کی تفصیلات طلب کی ہیں۔

نیب نے انکوائری میں خورشید شاہ کے صاحبزادے اور داماد کو بھی شامل کیا ہے

یہ بھی پڑھیں

پارلیمنٹ حملہ کیس سےمتعلق درخواست کا فیصلہ 29 اکتوبر کو سنانے کا امکان

پارلیمنٹ حملہ کیس سےمتعلق درخواست کا فیصلہ 29 اکتوبر کو سنانے کا امکان

اسلام آباد: اے ٹی سی جج رانا جواد عباس حسن نے درخواست کی سماعت کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے