ترکی میں 38 ہزار مجرموں کی رہائی کا فیصلہ

حکومت کی جانب سے اتنی بڑی تعداد میں مجرموں کو رہا کرنے کے مقصد کے بارے میں نہیں بتایا گیا ہے۔

تاہم ترکی میںایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ان دسیوں ہزاروں افراد کے لیے جگہ خالی کرنا ہے جنھیں گذشتہ ماہ ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے بعد حراست میں لیا گیا ہے۔

حکومت کی جانب سے دو ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں اور سینکڑوں فوجیوں کو اس ناکام بغاوت میں شامل ہونے کے الزام پر برخاست کرنے کا حکم بھی جاری کیا گیا ہے۔

ترکی کے وزیر قانون باقر بوزدق نے بدھ کو کہا کہ ’ترکی بعض قیدیوں کو جنھوں نے یکم جولائی سے قبل جرائم کیے تھے، وقت سے پہلے رہا کرے گا۔‘

باقر بوزدق کا کہنا تھا کہ ’اس کا مقصد ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے جیلوں میں موجود افراد کی تعداد میں اضافہ ہے۔‘

انھوں نے ٹوئٹر پر اپنی سلسلہ وار ٹویٹس میں کہا کہ ’اس اقدام کے تحت مجرموں کو معافی نہیں دی گئی ہے بلکہ انھیں پیرول پر رہا کیا جا رہا ہے۔‘

ترک وزیرِ قانون کا کہنا تھا کہ ’ان قیدیوں میں قتل، دہشت گردی یا ریاست کے خلاف اقدام کرنے والے اور 15 جولائی کی بغاوت کے بعد جیلوں میں ڈالے جانے والے افراد شامل نہیں ہوں گے۔‘

خیال رہے کہ ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے ترک حکومت کی جانب سے ملک میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو گرفتار اور نوکریوں سے برخاست یا معطل کیا گیا ہے۔

اس سے قبل گذشتہ روز ترکی میں سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا تھا کہ گذشتہ ماہ ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کی تحقیقات کے لیے پولیس نے 44 کمپنیوں کے 120 سربراہوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے ہیں۔

پراسیکیوٹرز نے استنبول کی جن کمپنیوں کو نشانہ بنایا ان پر امریکہ میں مقیم اسلامی مبلغ فتح اللہ گولن کی تحریک کے لیے فنڈ جاری کرنے کا شبہ تھا۔

اس کے علاوہ پیر کے روز ترکی میں پولیس نے استنبول کی تین عدالتوں پر بھی چھاپے مارے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

امریکہ اور چین کے تجارتی مذاکرات ناکام

امریکہ اور چین کے تجارتی مذاکرات ناکام

چین کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ اور چین کے تجارتی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے