کراچی میں دن دہاڑے گود سے بچے چھینے جانے کی وارداتیں بھی شروع،اسٹریٹ کرائمز سے شہری خوف میں مبتلا

شہرمیں جنگل کا قانون اچانک اسٹریٹ کرائمزاورجرائم کی دیگر واردتوں میں اضافےنے شہریوں کا سکون چھین کر خوف میں مبتلاکر دیا ہے ، کسی کی جان ومال محفوظ نہیں لیٹرے جب اور جہاں چاہتے ہیں وارداتیں کر کے بآسانی فرار ہو جاتے ہیں ۔ دن دھاڑے بچوں کا اغوااورگودوںسے چھینا جانا،وارداتیں اور مزاحمت پرمعصوم شہریوں کی جان لیناجبکہ متعدد کوزخمی کردینامنظم جرائم پیشہ گروہ کا معمول بن گیا ہے ،جن کے سامنے پولیس بے بس نظر آتی ہے ۔ یہ صورت حال ایک بڑا المیہ ہی نہیں بلکہ نئے آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی کے لئے چیلنج بھی ہے ۔ شہر میں یومیہ 10 سے15 وارداتیں حکومت ،پولیس اور قانون نافذ کر نے والےاداروں کے لئے سوالیہ نشان ہیں ، یہاں امر بھی قابل ہے کہ لاپتہ بچوں کے غمزدہ والدین نے وزیراعظم عمران خاں کی کراچی آمد کے موقع پر بچوں کی بازیابی کے لئے احتجاج بھی کیا ، اطلاعات کے مطابق اتوار کوگلشن حدید ااسٹیل مل موڑ کے نزدیک ملزمان نے ڈکیتی مزاحمت پرفائرنگ کر کے خاتون 30سالہ صبیحہ زوجہ زین العابدین کو زخمی کر دیا اور فرار ہو گئے ،گلشن بہار مہاجر چوک کے قریب ڈکیتی مزاحمت پر مسلح ڈاکووںکی فائرنگ سے 23سالہ نوجوان کاشی ولد نعیم زخمی ہوگیا ۔جوہر آباد تھانے کی حدود دستگیر نمبر 9میںمسلح موٹر سائیکل سوار4ڈاکووں نے گاڑی پارک کر کے اترنے والے میاں بیوی کو لوٹ لیا اور بآسانی فرار ہو گئے۔ ملیر سٹی تھانے کی حد ود نظر علی ٹاؤن ملیر کا رہائشی بچے ا12سالہ حسنین کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا ، والد خادم نبی کا کہناہے کہ میرا بیٹا ٹیوشن پڑھنے گیا تھا واپسی پر لاپتہ ہوا، والد پولیس نے مقدمہ تو درج کر لیا لیکن تعاون نہیں کررہی۔گزشتہ دنوں نیپئر تھانے کی حدود لی مارکیٹ کے فلیٹ سے خاتون کی گود سے چھین کر اغواکئے گئے معصوم بچے کو پولیس تاحال بازیاب نہ کراسکی، ہفتے کے روز بھی نامعلوم ملزمان ایم اے جناح روڈ پر کھڑی خاتون کی گود سےاس کا بچہ چھین کر فرار ہو گئے ۔فیڈرل بی ایریابلاک 17میں گھر کے سامنے پارک کی گئی کارنقاب پوش ملزم چوری کرکے فرار ہو گیا ۔ایک محتاط اندازےکے مطابق ماہ اگست سے اب تک 12کاریں چھینی اور 135سے زائد چوری کر لیں گئیں ،جبکہ 190 سے زائد موٹر سائیکلیں چھینی اور 2660چوری کر لی گئیں جبکہ 1510سے زائد موبائل فون اسلحے کے زور پر چھینے اور 1950چوری ہو ئے ۔اس حوالے سے ایڈیشنل آئی جی کر اچی اور ڈی آئی جی ایسٹ سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی لیکن انھوں نے فون ریسیو نہیں کیا ۔

یہ بھی پڑھیں

سینئر سرکاری عہدیداروں نے 1976 کے ڈرگ ایکٹ کی خلاف ورزی

سینئر سرکاری عہدیداروں نے 1976 کے ڈرگ ایکٹ کی خلاف ورزی

کراچی: سینئر عہدیداروں نے عام لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ڈریپ کے کام کو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے