برطانوی فہرست میں داؤد ابراہیم کا ’پاکستانی پتا

برطانوی حکام نے بھارت کے مطلوب ترین انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم پر مالی پابندیاں عائد کرتے ہوئے ان کے اثاثے منجمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

داؤد کا نام برطانوی وزارت مالیات کی اس افراد اور اہداف کی جامع اور تازہ فہرست میں شامل کیا گیا ہے جن پر مالی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

ان پابندیوں کے تحت برطانیہ میں ان کے اثاثے منجمد کیے جانے کے علاوہ دوسرے ممالک سے وہاں مالی لین دین بھی نہیں ہو سکے گا۔

داؤد ابراہیم سنہ 1993 میں بھارت کے شہر ممبئی میں ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں میں مطلوب ہیں اور ان کے خلاف بھارتی حکومت نے بین الاقوامی وارنٹ جاری کر رکھا ہے۔ پہلی بار یہ وارنٹ سنہ 2003 میں جاری کیا گيا تھا۔

وہ واحد ’بھارتی شہری‘ ہیں جنھیں اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے تاہم ان کے علاوہ لبریشن ٹائگرز آف تمل ایلم، خالصتان زندہ آباد فورس، انٹرنیشنل سکھ یوتھ فیڈریشن اور حزب المجاہدین جیسی تنظیمیں بھی پابندیوں کا شکار بنی ہیں۔

خیال رہے کہ داؤد ابراہیم کی شہریت اس فہرست میں بھارتی درج ہے لیکن بھارت نے ان کی شہریت ختم کر دی ہے۔فہرست میں داؤد کی شہریت بھارتی بتائی گئی ہے لیکن ان کے چار مختلف پتے پاکستان کے شہر کراچی کے دیے گئے ہیں۔

بھارت ایک عرصے سے یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ داؤد ابراہیم پاکستان میں ہیں لیکن پاکستان اس سے انکار کرتا رہا ہے۔

فہرست میں دیے گئے داؤد ابراہیم کے پتے اس طرح ہیں

  • داؤد ابراہیم کاسکر، مکان نمبر 37،گلی نمبر 30، ڈیفنس، ہاؤسنگ اتھارٹی، کراچی، پاکستان۔
  • نور آباد، کراچی، پاکستان (ایک پہاڑی علاقے میں محل نما بنگلہ)
  • وائٹ ہاؤس، نزد سعودی مسجد، کلفٹن، کراچی، پاکستان۔
  • 29 مارگلہ روڈ، سیکٹر ایف 2/6،گلی نمبر22، کراچی پاکستان

دلچسپ امر یہ ہے کہ فہرست میں دیا گیا چوتھا پتا اگرچہ کراچی کا بتایا گیا ہے تاہم درحقیقت یہ ایڈریس پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کا ہے

یہ بھی پڑھیں

بھارت کرتارپور راہداری منصوبے کو خوش آئند قرار

بھارت کرتارپور راہداری منصوبے کو خوش آئند قرار

واشنگٹن: مورگن آرٹیگس نے پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے پاک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے