شدت پسندوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے آپریشن شروع

ٹوئٹر پر شائع کیے جانے والے پیغام کے مطابق اس آپریشن کا مقصد خیبر ایجنسی کے بلند و بالا پہاڑی علاقوں اور ہر موسم میں استعمال ہونے والے دروں میں شدت پسندوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنا ہے۔

پیغام میں بتایا گیا ہے کہ اس آپریشن کے دوران خیبر ایجنسی میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں تعینات فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بنائے جانے والے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔

اس کمیٹی کی سربراہی قومی سلامتی کے امور کے لیے وزیرِ اعظم کے مشیر جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ کو سونپی گئی ہے۔

اس اجلاس میں سول آرمڈ فورسز کے مزید 29 ونگز کی تشکیل کا بھی فیصلہ کیا گیا تھا تاکہ سرحدی انتظام اور ملک میں سکیورٹی کی داخلی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔

گذشتہ ہفتے کوئٹہ کے ایک ہسپتال میں ہونے والے خودکش حملے میں بڑے پیمانے پر ہونے والی جانی نقصان کے بعد فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے ملک بھر میں ’کومبنگ آپریشن‘ کا حکم دیا تھا جس کے بعد قبائلی علاقوں سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں شروع کی گئی ہیں۔

ان کارروائیوں کے دوران 12 اگست کو خیبر ایجنسی ہی کے علاقے شاہ کس میں ایک کارروائی میں مبینہ طور پر سرحد پار سے آئے چار خودکش حملہ آوروں کو بارود سے بھری پانچ جیکٹوں سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔

دور افتادہ علاقہ

یہ دشوار گزار سرحدی علاقہ ہے جس کا بڑا حصہ گھنے جنگلات سے ڈھکا ہوا ہے۔ اس کی سرحد افغانستان کے صوبہ ننگرہار سے ملتی ہے۔ اس علاقے میں کوکی خیل قبائلی آباد ہیں۔

اس دور افتادہ علاقے میں کئی شدت پسند تنظیمیں سرگرمِ عمل ہیں جن میں لشکرِ اسلام، تحریکِ طالبان پاکستان اور دوسری تنظیمیں شامل ہیں جن کے ارکان علاقے کے جغرافیے سے فائدہ اٹھا کر آسانی سے سرحد کے پار آتے جاتے رہتے ہیں۔

آپریشن خیبر ٹو

یاد رہے کہ آرمی پبلک سکول حملے کے بعد فوج نے فروری 2015 خیبر ایجنسی میں خیبر ٹو کے نام سے فوجی آپریشن کا آغاز کیا تھا۔

یہ آپریشن سرحدی علاقوں وادی تیراہ اور دیگر ان علاقوں میں کیا گیا جہاں پہلے سکیورٹی فورسز کی کوئی عمل داری نہیں تھی۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس آپریشن کے نتیجے میں کالعدم تنظیموں لشکر اسلام اور تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کو علاقے سے نکال کر افغانستان کی جانب دھکیل دیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کے دوران ان اہم مقامات پر بھی قبضہ کر لیا گیا جہاں پہلے اکثر اوقات مشکل آنے کی صورت میں شدت پسند سرحد پار کر کے دوسرے علاقوں میں فرار ہوجایا کرتے تھے۔

آپریشن خیبر ٹو کے دوران 50 کے قریب سکیورٹی اہلکار ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔

یہ آپریشن جولائی 2015 میں کامیابی کے اعلان کے ساتھ ختم کر دیا گیا تھا، تاہم میڈیا کو اس علاقے تک آزادانہ رسائی نہیں جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ سکیورٹی فورسز اپنے اہداف حاصل کرنے میں کس حد تک کامیاب رہیں۔

یہ بھی پڑھیں

صوبائی حکومت صوبائی سطح پر این ڈی ایم اے کیساتھ بھی تعاون یقینی بنائے گی

صوبائی حکومت صوبائی سطح پر این ڈی ایم اے کیساتھ بھی تعاون یقینی بنائے گی

پشاور: این ڈی ایم اے کے چیئرمین نے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں وزیراعلیٰ سے ملاقات …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے