اپنی خاندانی میراث کا دامن نہیں چھوڑا ،پہلے سے زیادہ رشتہ مضبوط ہوگیا ہے

اپنے ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ باادب بامراد اور بے ادب بے مراد کا سبق آج تک نہیں بھولا،وقت جیسا بھی گزرے اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ادب اور گلوکاری مجھے وراثت میں ملی ہے اور میںنے اپنی خاندانی میراث کا دامن نہیں چھوڑا بلکہ پہلے سے زیادہ رشتہ مضبوط ہوگیا ہے۔ لاچا کرتا اور چمٹہ میری مٹی اور ثقافت کی شناخت ہے جس کو اپنے آپ سے کسی طرح بھی علیحدہ کرنے کے بارے سوچ بھی نہیں سکتا ۔میرا یہی منفرد انداز پوری دنیا میں مقبول ہے اور جہاں کہیں بھی جاتا ہوں تو ایک پاکستانی فوک گلوکار کے طور پر مجھے جو محبت اور پیار ملتا ہے اسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔

یہ بھی پڑھیں

نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 22 برس بیت گئے

نصرت فتح علی خان نے 16 سال کی عمر میں صوفی قوالی کا رنگ اپنایا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے