وزیر اعلیٰ سندھ سیکریٹیریٹ پہنچ گئے

وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت پہلا اجلاس صوبے بھر میں سڑکوں کی نا گفتہ بہ حالت اور توڑ پھوڑ کی درستگی کے لیے بنائی گئی اسکیموں کے متعلق ہوگا جس میں وزیر بلدیات سمیت سیکرٹری بلدیات و کمشنرز بھی شرکت کریں گے۔

واضح رہے سندھ کے بجٹ برائے مالی سال 2016-2017 میں سڑکوں کی تعمیر کے لیے 22.4 ارب روپے مختص کیے گئے تھے جن سے شاہین کمپلیکس فلائی اوور، یو بی ایل اسپورٹ کمپلیکس فلائی اوور، اسٹار گیٹ انڈر پاس، شاہراہ قائدین سے طارق روڈ تک،این ای ڈی یونیورسٹی سے صفورہ تک،اور حسن اسکوئر سے نیپا تک شاہراہوں کی تعمیر شامل ہے۔

جب کہ دوسرا اجلاس صوبے بھر میں ڈاکٹرز اورادویات کی کمی سے متعلق ہوگا،اس حوالے سے وزیر اعلیٰ سندھ کو رہورٹ موصول ہوئی ہے کہ دیہی علاقوں میں صحت کا شعبہ ذبوں حالی کا شکار ہے اورکوئی ڈاکٹر دیہی علاقوں کے ڈسٹرکٹ اسپتالوں میں خدمات انجام نہیں دینا چاہتا اس کے علاوہ سندھ بھر میں صوبائی حکومت کے زیر انتظام چلنے والے صحت کے مراکزمیں سہلویات کا فقدان بھی ہے۔

واضح رہے اٹھارہویں ترمیم کے بعد سے جو محکمے صوبے کو تفویض کیے گئے‌تھے‌اُن میں صحت کا شعبہ تھا تا ہم اب جناح اسپتال کراچی سمیت دیگر وفاقی سطح پر چلنے والے اسپتالوں کی انتظامی اور مالی اختیارات کی صوبے کو منتقلی تا حال زیر بحث ہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

قائم علی شاہ کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور

قائم علی شاہ کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) رہنما کی ضمانت 29 اگست تک کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے