محرم سے قبل امام بارگاہوں کے سامنے اور اطراف پانی و سیوریج کے مسائل حل کئے جائیں، میئر کراچی

کراچی: میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ بلدیاتی اداروں نے دو سال کے دوران اپنا 70 سے 75 فیصد بجٹ پانی و سیوریج کے چھوٹے چھوٹے کاموں پر لگا دیا، بڑے پروجیکٹ کے لئے ہمارے پاس وسائل نہیں، کوشش کی ہے کہ محرم الحرام سے قبل امام بارگاہوں اور مساجد کے سامنے اور اطراف پانی و سیوریج کے مسائل حل کئے جائیں، مختلف اضلاع میں سڑکوں کی مرمت و پیوندکاری کرا رہے ہیں، محدود وسائل میں رہتے ہوئے چھوٹے چھوٹے ایشوز کو دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کاش میرے پاس اتنے فنڈز ہوتے کہ پورے شہر کا انفرا اسٹرکچر ٹھیک کر رہا ہوتا، کراچی پورے ملک کو پالتا ہے مگر خود توجہ سے محروم ہے، یہاں پانی و سیوریج اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا انفرا اسٹرکچر ٹھیک ہونا چاہیئے، K-IV کا پانی موجودہ لائنوں میں آیا تو وہ اسے برداشت نہیں کر پائیں گی۔

یہ بات انہوں نے محرم الحرام کے انتظامات کے حوالے سے کے ایم سی ہیڈ آفس میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر مختلف مذہبی جماعتوں اور تنظیموں سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام اور دیگر نمائندوں نے اپنے اپنے علاقوں کے مسائل سے میئر کراچی کو آگاہ کیا۔

میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ مختلف امام بارگاہوں کے اطراف کئی لاکھ اسکوائر فٹ سڑکوں کی کارپیٹنگ کی گئی ہے، شہر کی حالت کو بہتر بنانا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں، خواہ یہ ایک دو دن کے لئے ہو یا پورے مہینے کے لئے، محرم الحرام کے انتظامات کے لئے ایس او پی بنا ہوا ہے جس میں مزید بہتری لانے کے لئے علماء کرام تجاویز دیں، فنڈز کے حوالے سے بار بار بات کرنا مجبوری ہے، کراچی کے شہریوں کو حقائق کا علم رہنا چاہہئے۔

یہ بھی پڑھیں

سینئر سرکاری عہدیداروں نے 1976 کے ڈرگ ایکٹ کی خلاف ورزی

سینئر سرکاری عہدیداروں نے 1976 کے ڈرگ ایکٹ کی خلاف ورزی

کراچی: سینئر عہدیداروں نے عام لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ڈریپ کے کام کو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے