ٹرمپ نے شامی صدر بشار الاسد کے قتل کا حکم دیا تھا، امریکی صحافی کا دعویٰ

واشنگٹن: امریکی صحافی باب وڈورڈز نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شامی صدر بشارالاسد کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا تاہم وزیر دفاع نے اس پر عمل سے گریز کیا۔ امریکی صحافی باب وڈورڈز نے اپنی کتاب "فئیر” میں انکشاف کیا ہے کہ اپریل 2017ء میں جب شام میں کیمیائی حملے کی اطلاع ملی تو امریکی صدر مشتعل ہوگئے، انہوں نے ٹیلی فون پر وزیر دفاع جیمز میٹس کو بشارالاسد کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ جیمز میٹس نے ڈونلڈ ٹرمپ کو جواب دیا کہ وہ معاملہ خود نمٹا دیں گے۔

صحافی نے دعویٰ کیا ہے کہ صدارتی حکم کے 3 روز بعد امریکا نے شام پر 59 ٹام ہاک میزائل داغے تھے، باب وڈورڈز کی کتاب سے متعلق یہ تفصیلات واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہوئی ہیں۔ مذکورہ کتاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی 20 ماہ کی صدارت کے دوران وائٹ ہاؤس میں ہونے والے معاملات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

صدر رجب طیب اردوان نے فرانس کے صدر ایمانیئول میکرون’دماغی معائنہ‘ کرانے کے لیے زور دیا ہے

صدر رجب طیب اردوان نے فرانس کے صدر ایمانیئول میکرون’دماغی معائنہ‘ کرانے کے لیے زور دیا ہے

استنبول: ترک صدر رجب طلب اردوان سے سخت ردعمل دیا تھا ہفتے کو کہا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے