کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیراہیں

چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب بنیادی طور پر شکایت پر کارروائی کرنے والا ادارہ ہے جسے بدعنوانی کے خاتمہ اور لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کیلئے قائم کیا گیا.

انہوں نے کہا کہ نیب کے تفتیشی افسران کوڈ آف کنڈکٹ پر سختی سے عمل کرتے ہیں اور قانون کے مطابق شہادتوں کی بنیاد پر زیرو ٹالرنس پر عمل پیرا ہیں.

چیئرمین نیب کے مطابق نیب نے اپنے قیام سے لے کر اب تک 277.909 ارب روپے کی ریکوری کی ہے. نیب کو تین لاکھ 21 ہزار 318 شکایات موصول ہوئیں جنہیں قانون کے مطابق نمٹا دیا گیا.

قمر الزمان چوہدری نے کہا کہ 16 سال کے مختصر وقت میں نیب کی کارکردگی دنیا کی کسی بھی تفتیشی ایجنسی سے کہیں زیادہ بہتر ہے یہی وجہ ہے کہ ٹرانپرنسی انٹرنیشنل نے 2014ء میں پاکستان کو 175ویں سے 126 پر ریٹ کیا جبکہ 2015ء میں مزید کم ہوکر یہ 126سے 117پر آگیا.

انہوں نے کہاکہ انسداد بدعنوانی کی موثر حکمت عملی کی وجہ سے نیب کو پولیس اور ایف آئی اے کے مقابلے میں پلڈاٹ اور مشال پاکستان کے سروے میں 42 فیصد عوام کے اعتماد کا حامل ادارہ قرار دیا گیا ہے.

واضح رہےکہ چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں اور نیب نے نوجوانوں کو بدعنوانی کی مضر اثرات سے متعلق اگاہی کےلیے نوجوانوں کی شمولیت کو خصوصی توجہ مرکوز کی ہے.

یہ بھی پڑھیں

افغانستان کو عالمی دہشت گردی کا محرک نہ بننے دینے کی ضمانت

افغانستان کو عالمی دہشت گردی کا محرک نہ بننے دینے کی ضمانت

پشاور: قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے نویں دور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے