این اے 89: شیخ اکرم کی نااہلی کا فیصلہ کالعدم

جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے این اے 89 جھنگ سے مسلم لیگ (ن) کے شیخ اکرم کی نااہلی سے متعلق الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے شیخ اکرم کی قومی اسمبلی کی رکنیت بحال کردی۔

واضح رہے کہ 9 اپریل 2014 کو متحدہ دینی محاذ کے پیلٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لینے والےکے سربراہ مولانا احمد لدھیانوی کی درخواست پر فیصل آباد کے الیکشن ٹربیونل نے شیخ اکرم کو نااہل قرار دیتے ہوئے ڈی سیٹ کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔

درخواست میں شیخ اکرم پر کاغذات نامزدگی میں ولدیت اور شناختی کارڈ نمبر غلط لکھنے کا الزام عائد کیا گیا تھا، اس کے علاوہ ان پر ایف آئی آر کا اندراج اور انتخابی بے ظابطی کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔

درخواست کی سماعت کے دوران شیخ اکرم کے وکیل کا موقف تھا کہ ان کے موکل نے بعد ازاں ولدیت اور شناختی کارڈ کی غلطی درست کرالی تھی۔

الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے 18 اپریل 2014 کو مولانا احمد لدھیانوی کی بطور رکن قومی اسمبلی کامیابی کا نوٹی فیکیشن جاری کیا۔

مسلم لیگ (ن) کے شیخ اکرم نے الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس کے بعد 22 اپریل 2014 کو سپریم کورٹ نے الیکشن ٹربیونل کی جانب سے احمد لدھیانوی کی کامیابی کا فیصلہ معطل کر دیا تھا۔

8 دسمبر 2015 کو عدالت نے این اے 89 میں ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج سنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں

اپوزیشن اپنا تعمیری کردار ادا نہیں کر رہی

اپوزیشن اپنا تعمیری کردار ادا نہیں کر رہی

لاہور: راجہ بشارت نے کہا کہ پروڈکشن آرڈر جاری کرنا اسپیکر کا اختیار ہے جن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے