العزیزیہ ریفرنس: سماعت کل تک ملتوی، واجد ضیاء کے بیان میں تبدیلی پر نیب کو نوٹس

احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت کل دن ساڑھے 12 بجے تک کے لیے ملتوی کردی، دوسری جانب العزیزیہ ریفرنس میں پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کے بیان میں تبدیلی کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو کل کے لیے نوٹس جاری کر دیا۔

احتساب عدالت نمبر 2 کے جج ارشد ملک نے نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت کی۔ سماعت کے لیے سابق وزیراعظم نواز شریف کو اڈیالہ جیل سے احتساب عدالت لایا گیا۔

آج جب سماعت کا آغاز ہوا تو ایڈووکیٹ خواجہ حارث کے معاون وکیل عدالت میں پیش ہوئے اور آگاہ کیا کہ ‘نواز شریف کے وکیل اسلام آباد ہائی کورٹ میں مصروف ہیں، جہاں ڈویژن بنچ میں واجد ضیاء کے بیان میں تبدیلی کے خلاف درخواست آج سماعت کے لیے مقرر ہے’۔

جج محمد ارشد ملک نے استفسار کیا کہ ‘ڈویژن بنچ میں سماعت کتنے بجے شروع ہوتی ہے؟’

معاون وکیل نے جواب دیا کہ ‘ہائی کورٹ کا ڈویژن بنچ ساڑھے 11 بجے سماعت شروع کرتا ہے’۔

جس پر احتساب عدالت کے جج نے معاون وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘پھر ہم ساڑھے 12 بجے تک سماعت میں وقفہ کر دیتے ہیں، آپ اس دوران خواجہ حارث سے پوچھ لیں کہ کیا وہ اس سے پہلے آسکتے ہیں؟’

جس کے بعد سماعت میں ساڑھے 12 تک کا وقفہ کردیا گیا۔

واجد ضیاء کے بیان میں تبدیلی کی درخوست پر نیب کو نوٹس

دوسری جانب العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں واجد ضیاء کے بیان میں تبدیلی کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی درخواست پر قومی احتساب بیورو (نیب) کو کل کے لیے نوٹس جاری کر دیا۔

جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل اسلام آباد ہائیکورٹ کے بنچ نے درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ‘میرا موقف ہے کہ نواز شریف اور حسین نواز نے رپورٹ پیش نہیں کی’۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ ‘رپورٹ پیش کی گئی تو جے آئی ٹی رپورٹ میں موجود ہوگا۔’

خواجہ حارث نے کہا کہ ‘میرے سوال پر واجد ضیاء نے جواب دیا، جو لکھا گیا’۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ‘نیب پراسیکیوٹر کے اعتراض پر فاضل جج نے لکھا گیا بیان تبدیل کردیا’۔

جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ ‘بیان تبدیل کرنے سے آپ کے کیس پر کیا اثر پڑے گا؟’

خواجہ حارث نے کہا کہ ‘نیب کے اعتراض پر لکھا گیا بیان تبدیل ہوسکتا ہے’۔

جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ ‘نیب حکام کو کل سن لیتے ہیں’۔

اس کے ساتھ ہی عدالت عالیہ نے نیب کو کل (4 ستمبر) کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ احتساب عدالت میں العزیزیہ ریفرنس کی 30 اگست کو ہونے والی گزشتہ سماعت پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا پر جرح جاری رکھی تھی، تاہم واجد ضیاء نے شماریات ، بزنس اور بینکنگ کی تکنیکی ٹرمز والے سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا تھا۔

واجد ضیاء نے جرح کے دوران بتایا کہ نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نےآڈٹ بیورو رپورٹ جے آئی ٹی میں جمع کرائی تھی، جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ واجد ضیاء شریک ملزمان کی جمع کرائی گئی دستاویزات بھی ہمارے کھاتے میں ڈال رہے ہیں۔

ایک موقع پر جے آئی ٹی رپورٹ پڑھ کر خواجہ حارث نے سوال کرنا چاہا تو واجد ضیاء نے کہا کہ اس میں ٹائپنگ کی غلطی ہے، لفظ or کی جگہ غلطی سے لفظ of لکھا گیا۔

عدالت نے ایک موقع پر واجد ضیاء کے ریکارڈ کیے گئے بیان میں نیب پراسیکیوٹر کے کہنے پر تبدیلی کرائی تو خواجہ حارث برہم ہوگئے اور کہا کہ عدالتی ریکارڈ میں ٹیمپرنگ کی اجازت نہیں دوں گا، جس کے بعد خواجہ حارث احتجاجاً عدالت سے چلے بھی گئے۔

بعد میں ان کی طرف سے معاون وکلاء نے بیان میں تبدیلی کو چیلنج کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔

دوران سماعت نیب کی پراسیکیوشن ٹیم اور خواجہ حارث کے معاون وکلاء کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا تھا۔

احتساب عدالت میں وقفے کے بعد کی کارروائی

ساڑھے 12 بجے وقفے کے بعد نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث اسلام آباد ہائیکورٹ سے احتساب عدالت پہنچے۔

نیب پراسیکیوٹر نے آگاہ کیا کہ ‘عدالتی کارروائی پر اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے کوئی حکم امتناع جاری نہیں کیا گیا’۔

خواجہ حارث نے موقف اختیار کیا کہ ‘ہائیکورٹ میں لمبی تاریخ نہیں دی گئی، اس لیے ہم نے حکم امتناع نہیں مانگا۔’

احتساب عدالت کے جج نے تجویز دی کہ ‘کارروائی کا جو حصہ چیلنج کیا گیا ہے، اُسے چھوڑ کر آگے چل لیتے ہیں’۔

جس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ ‘ایک ترتیب بنی ہوئی ہے، لہذا اُسی کے تحت چلنا ہے’۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘یہ کوئی پرسنل بات نہیں، خالصتاً قانونی معاملہ ہے’۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے ریمارکس دیئے کہ ‘اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے کل کے لیے نوٹس ہوا ہے، تو پھر تو یہ کل بھی نہیں ہو پائے گا’۔

اس کے ساتھ ہی احتساب عدالت نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت کل دن ساڑھے 12 بجے تک کے لیے ملتوی کردی۔

نیب ریفرنسز کا پس منظر

سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق ہیں۔

نیب کی جانب سے ایون فیلڈ پراپرٹیز (لندن فلیٹس) ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کے بیٹوں حسن اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا گیا تھا۔

اس کیس میں احتساب عدالت کی جانب سے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو سزا سنائی جاچکی ہے اور وہ اس وقت جیل میں ہیں۔

دوسری جانب العزیزیہ اسٹیل ملز اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا ہے، جو اس وقت زیرِ سماعت ہیں۔

نواز شریف کے صاحبزادے حسن اور حسین نواز اب تک احتساب عدالت کے روبرو پیش نہیں ہوئے جس پر عدالت انہیں مفرور قرار دے کر ان کا کیس الگ کرچکی ہے۔

نیب کی جانب سے احتساب عدالت میں تین ضمنی ریفرنسز بھی دائر کیے گئے، جن میں ایون فیلڈ پراپرٹیز ضمنی ریفرنس میں نواز شریف کو براہ راست ملزم قرار دیا گیا تھا جبکہ العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ضمنی ریفرنس میں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر نامزد ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

خواجہ آصف نے وزیر اعظم اور مجھ پر انھیں جانی نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا

خواجہ آصف نے وزیر اعظم اور مجھ پر انھیں جانی نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا

اسلام آباد:عثمان ڈار نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو خط لکھ کر خواجہ آصف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے