ایرانی وزیرخارجہ کا دورہ پاکستان، ایران چاہتا ہے کہ پاکستان خام تیل لے، بدلے میں خوراک فراہم کرے: جنرل امجد شعیب

اسلام آباد: پاکستان میں ماہرین ایرانی وزیر خارجہ جواد طریف کے دورہ پاکستان کو تہران کی طرف سے مشکل وقت میں اتحادی ڈھونڈنے کی ایک کوشش قرار دے رہے ہیں جواد ظریف دو روزہ دورے پر کل شام اسلام آباد پہنچے تھے۔ معروف دفاعی تجزیہ نگار جنرل امجد شعیب نے اس دورے پر بتایا ، ایران کے اوپر نومبر میں امریکا کی طرف سے پابندیاں لگائی جا رہی ہیں اور تہران چاہتا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ بارٹر ٹریڈ کرے یا پھر چینی و روسی کرنسی میں تجارت کرے۔ وہ چاہتا ہے کہ پاکستان خام تیل ایران سے لے اور ایران کو بدلے میں خوراک اور دیگر اشیاء فراہم کرے۔ جنرل امجدشعیب نے مزید کہا کہ اس دورے کا مقصد صرف معاشی نہیں بلکہ اسٹریٹجک بھی ہے۔

روزنامہ دنیا نے جرمن میڈیا کے حوالے دفترِ خارجہ کے ایک اہم عہدیدار نے نام ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس دورے کو کوئی پہلے سے متعین ایجنڈا نہیں ہے۔ اس عہدیدار نے مزید کہا ایران ہمارا برادر اسلامی ملک ہے اور نئی حکومت کے آنے کے بعد یہ کسی اسلامی ملک کے پہلے وزیر خارجہ ہیں ، جو پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے پاکستانی ہم منصب اور آرمی چیف جنرل باجوہ سے ملاقاتیں کیں۔ تجزیہ نگاروں کے خیال میں ایران خطے کے موجودہ صورتِ حال کے پیش نظر پاکستان سے کچھ امیدیں باندھ رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا شام میں داعش کو ایران روس کی وجہ سے شکست ہوئی ہے۔ اور داعش کے لوگ اس وجہ سے آگ بگولہ ہیں۔ امریکا داعش کے ان ارکان کو روش اور ایران کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے ، جن کا تعلق ایرانی بلوچستان ، چیچنیا اور داغستان سے ہے۔ پاکستان نے جنداللہ کے حوالے سے ایران کی مدد کی تھی۔ اب ایران یہ چاہتا ہے کہ پاکستان داعش کے خلاف بھی تہران کی مدد کرے اور اس دورے کا ایک مقصد اس مدد کا حصول بھی ہے۔ لیکن کچھ تجزیہ نگاروں کے خیال میں نئی حکومت ایران اور سعودی عرب میں مصالحت کرانے کے لیے کوشاں ہے اور اس دورے کا مقصد ایسی کوششوں کو تیز کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

خواجہ آصف نے وزیر اعظم اور مجھ پر انھیں جانی نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا

خواجہ آصف نے وزیر اعظم اور مجھ پر انھیں جانی نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا

اسلام آباد:عثمان ڈار نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو خط لکھ کر خواجہ آصف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے