کانز کے ساحلوں پر برقینی پہنے پر پابندی

شہر کے میئر نے کہا کہ یہ ’اسلامی شدت پسندی‘ کی علامت ہے اور کیونکہ فرانس اسلامی شدت پسندوں کے حملوں کی زد میں ہے اس لیے ساحل پر برقینی پہنے سے جھگڑے ہونے کا امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

فرانس میں گذشتہ ماہ ہونے والے پر تشدد حملے کے بعد سے سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔ نئے احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 38 یورو جرمانہ کیا جائے گا۔

احکامات کے مطابق پہلے مرحلے میں انھیں کہا جائے گا کہ وہ اپنا لباس تبدیل کر لیں یا ساحل سے چلے جائیں۔

اس سے قبل کانز کے ساحل پر کسی کو بھی برقینی پہنے سے نہیں روکا جاتا تھا۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ فرانس میں خواتین پر ملبوسات سے متعلق پابندی عائد کی گئی ہے۔ سنہ 2011 فرانس پہلا یورپی ملک تھا جس نے چہرے پر نقاب کرنے پر پابندی عائد کی تھی۔

میئر کی جانب سے جاری ہونے والے احکامات میں کہا گیا ہے کہ ’کوئی بھی ایسا شخص جو تیراکی کے لیے نامناسب لباس پہنے ہوئے ہو اُس کی ساحل پر آمد پر پابندی ہو گی کیونکہ یہ مذہبی اعتدال پسندی اور سیکولرزم کے خلاف ہے۔‘

’ان حالات میں جب فرانس میں عبادت گاہیں شدت پسندوں کے نشانے پر ہوں ایسے میں ساحل پر پہنے والے ایسا ملبوسات جس سے مذہبی وابستگی کا اظہار ہو وہ عوام کے لیے خطرہ ہے۔‘

مقامی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ کانز کے میئر کے احکامات کے مطابق وہ تمام اشیا جو کسی مذہبی علامت کو ظاہر کریں اُنھیں پہنے کی اجازت ہو گی۔اس پابندی کا اطلاق سکارف پہنے والی مسلمان خواتین بھی نہیں ہو گا۔

فرانس میں انسانی حقوق کی تنظیم لیگ آف ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلہ کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں

جرمنی کی, حکومت ایران کے, ساتھ بحران میں ثالثی, کا کردار, ادا کرنا, چاہتی ہے

جرمنی کی حکومت ایران کے ساتھ بحران میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتی ہے

برلن: جرمنی کی حکومت ایران کے ساتھ بحران میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے