دفاتر میں 18 سے 24 سال کی لڑکیوں کیساتھ انتہائی شرمناک سلوک

لندن:  برطانوی ٹریڈ یونین کارپوریشن کی جانب سے کئےگئے سروے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ برطانیہ میں ملازمت پیشہ خواتین کو دفتروں میں جنسی طور پر ہراساں کیا جارہا ہے جن میں 18 سے 24 سال تک کی لڑکیاں اس کا زیادہ شکار ہیں۔اس سروے میں 1500 خواتین کی رائے معلوم کی گئی تھی جن میں ایک تہائی خواتین کو نامناسب لطیفے سنائے گئے اور 4 میں سے ایک خاتون کو ان کے جسم یا لباس کے بارے میں جنسی فقروں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ 4 میں سے ایک خاتون نے کہا کہ ملازمت کی جگہ پرمرد ساتھی نے انہیں چھونے کی کوشش کی اور 8 میں سے ایک خاتون کا کہنا تھا کہ مرد نے ان کا بوسہ لینے کی کوشش کی۔ برطانیہ میں کم عمر لڑکیاں اور خواتین اس عمل کی زیادہ شکار ہورہی ہیں۔


سروے کے مطابق جنسی طور پر ہراساں کی جانے والی 5 میں سے 4 خواتین اپنے ماتحتوں سے اس کا ذکر اس وجہ سے نہیں کرتیں کہ اس سے ان کے پیشہ ورانہ تعلقات متاثر ہوں گے اور ان کا کیریئر تباہ ہوجائے گا ۔خواتین ملازمین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا عمل بالکل برداشت نہیں کرنا چاہیے اور اس کی شکایت کرنی ضروری ہے

 

 

یہ بھی پڑھیں

جرمنی کی, حکومت ایران کے, ساتھ بحران میں ثالثی, کا کردار, ادا کرنا, چاہتی ہے

جرمنی کی حکومت ایران کے ساتھ بحران میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتی ہے

برلن: جرمنی کی حکومت ایران کے ساتھ بحران میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے