مکہ کرین حادثہ کی تحقیقات سے متعلق بڑی خبر آگئی

سعودی عرب کے 6، پاکستان ، شام ، اردن، فلسطین ،کینیڈااور متحدہ عرب امارات کے ایک ایک شہری کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔
ان افراد پربنیادی طور پر غفلت،قتل اور لوگوں کو زخمی کرنے کے الزامات ہیں تاہم فیصلہ عدالتی کارروائی کے بعد ہی سنایا جائے گا۔ جوڈیشل کمیٹی نے تمام مدعاعلیہان الزامات کا سامنا کرنے کیلئے طلبی کے نوٹس بھی جاری کردیئے ہیں۔

مکہ حادثے کی تحقیقات کے حوالے سے تفصیلی خبر شائع کی ہے ۔گزشتہ برس ہونے والے حادثے میں 110افراد جاں بحق اور 210زخمی ہوگئے تھے۔اخبار کے مطابق گرنے والی کرین کے بلیک باکس کا تجزیہ بھی کیا جارہا ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ حقیقت میں ہوا کیا تھا؟خبر کے مطابق حکام کرین گرنے کے حوالے سے تمام زاویوں کا جائزہ لینے کے بعد درست معلومات حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔تحقیقات کے دوران تکنیکی وجوہات کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

ذمہ داروں کے خلاف کارروائی آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔تحقیقات کے دوران پراجیکٹ منیجر،سول انجینئر اور دیگر حکام سے بھی پوچھ گچھ کی گئی۔سانحہ کے حوالے سے تکنیکی رپورٹس کا جائزہ بھی لیا گیا۔ بن لادن گروپ کے ایک سو ستر سے زائد کارکنوں،انجینئروں اور ماہرین سے بھی سوال جواب کئے گئے۔تحیققات کے بعد چودہ افراد کو واقعہ کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے جو قتل کے الزامات کا سامنا کریں گے۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ذمہ دار قرار دیئے گئے افراد نہ سیفٹی رولز کا علم نہیں رکھتے تھے،انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ بدلتے موسمی حالات میں دوسو میٹر بلند اور ایک ہزار تین سو پچاس ٹن وزنی کرین کو کس طرح آپریٹ کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

روس کا کیمیائی ہتھیاروں کی نابودی کے لیے لازمی اقدامات پر زور

روس کا کیمیائی ہتھیاروں کی نابودی کے لیے لازمی اقدامات پر زور

روس نے کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کے عالمی معاہدے کے رکن ملکوں کے درمیان تعمیری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے