کوئٹہ میں جج کے قافلے پر بم حملہ، 14 افراد زخمی

کوئٹہ کے وزیرِ داخلہ سرفراز بگٹی نے میڈیا کو بتایا کہ ’اس ریمورٹ کنٹرول بم دھماکے کا نشانہ ہائی کورٹ کے جج کے سکواڈ میں شامل پولیس کی گاڑی بنی تاہم جج صاحب کی گاڑی محفوظ رہی۔‘

کوئٹہ کے سول ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر عبدالرحمن نےبتایا کہ بم دھماکے میں زخمی ہونے والے 14 افراد کو ہسپتال لایا گیا ہے جس میں چار پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

دھماکے کے بعد پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

رواں ہفتے ہی پیر کو سول ہسپتال میں ہونے والے بم دھماکے میں 71 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس دھماکے کے بعد شہر میں سکیورٹی پہلے ہی ہائی الرٹ تھی اور گذشتہ رات ہی فوج کے سربراہ جنرل راحیل کی ہدایت پر کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کومبنگ آپریشن بھی شروع کیا گیا تھا۔

کوئٹہ میں دھماکے کے بعد ملک میں ایک بار پھر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی ایکشن پلان قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

بدھ کو وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت ملک میں سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس میں قومی ایکشن پلان کے نکات پر عملدارآمد تیز کرنےاور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے پر اتفاق کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں

سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں بھی ای کورٹ کا آغاز

سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں بھی ای کورٹ کا آغاز

کوئٹۃ: کراچی کے بعد سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں بھی ای کورٹ کا آغاز ہوگیا،اسلام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے