ایم کیو ایم کا حکومت کخلاف سڑکوں پر آنے کا عندیہ

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ نے وفاقی حکومت کو اپنے تحفظات سے ایک مرتبہ پھر آگاہ کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم نے نواز حکومت سے شکوہ کیا ہے کہ پاکستان میں ایک سیاسی جماعت کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے، اس پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے، اگر ایم کیو ایم کا کوئی کارکن ملزم ہے، تو آئین اور قانون کے مطابق اس کی ایف آئی آر درج کی جائے، اور عدالتی کارروائی عمل میں لائی جائے نہ کہ انھیں ماورائے عدالت قتل کیا جائے یا بلاجواز گرفتار کیا جائے۔ متحدہ ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے کارکنان کی گرفتاری اور ماروائے عدالت قتل کی روک تھام کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں، تاکہ مزید تضاد سے بچا جا سکے۔ قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر اور سینئر رہنما خالد مقبول صدیقی نے میڈیا کو بتایا کہ متحدہ نے ایک مرتبہ پھر نواز حکومت سے بات کرکے حجت تمام کی ہے، مگر اب ہمیں اعتبار نہیں ہے کہ ایم کیو ایم کے تحفظات دور ہو سکیں گے، اب پانی سر سے اوپر جا چکا ہے، اور ہمیں اس بات کا خوف ہے کہ لوگ خود اپنی حفاظت اور حق مانگنے کیلئے نہ اٹھ کھڑے ہوں، اگر مزید ہماری بات کو رد کیا گیا، تو متحدہ قومی موومنٹ طویل المدت احتجاج کیلئے سڑکوں پر آ جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں

30 ستمبر کو سندھ کے 5 تعلیمی بورڈز میں چیئرمینز کے عہدے کی مدت پوری ہو رہی ہے

30 ستمبر کو سندھ کے 5 تعلیمی بورڈز میں چیئرمینز کے عہدے کی مدت پوری ہو رہی ہے

کراچی: چیف سیکریٹری سندھ ممتاز علی شاہ نے ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے