برطانیہ اور روس باہمی تعلقات کی بہتری کےلیے پرعزم

ادھر روسی صدر کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے دونوں رہنماؤں نے روس اور برطانیہ کے موجودہ تعلقات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے اور ان میں بہتری کے عزم ظاہر کیا ہے۔

برطانوی وزیراعظم کے ترجمان کے مطابق روسی صدر اور برطانوی وزیراعظم نے ایوی ایشن سکیورٹی میں تعاون کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف دونوں ملکوں کی کوششوں کے لیے یہ بہت اہم ہے۔

دونوں رہنما اگلے ماہ چین میں جی 20 ممالک کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

خیال رہے کہ روس اور برطانیہ کے درمیان کشیدہ تعلقات کی ایک وجہ لندن میں سنہ 2006 میں روسی جاسوس الیگزنڈر لتوینینکو کے قتل اور اس کے بعد سامنے آنے والی 

برطانوی رپورٹ کے مطابق ان کے قتل کی اجازت ’شاید‘ صدر پوتن نے کی تھی۔

اس کے علاوہ روس کی شامی جنگ میں حکومتِ شام کو مدد، کرائمیا پر قبضہ اور یوکرین میں جنگ سمیت روس پر مغرب کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیاں بھیدونوں ملکوں کے درمیان کھچاؤ کی وجہ ہیں۔

ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ کے مطابق روسی اور برطانوی سربراہانِ مملکت نے اپنی گفتگو میں دونوں ملکوں کی سکیورٹی کو درپیشں خطرات پر بھی بات کی۔

روسی صدر کے دفتر سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ دونوں ممالک میں سکیورٹی ایجنسیوں کے درمیان فضائی سکیورٹی کے حوالے سے بات چیت کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔

روسی حکومت کی جانب سے یہ بھی تصدیق کی گئی ہے کہ برطانوی وزیراعظم رواں ماہ کے آخر میں روسی شہر آرخانگیسلک میں جنگ کے 75 برس مکمل ہونے کی تقریب میں شرکت کریں گی۔ اس جنگ میں برطانیہ نے روس کو امداد فراہم کی تھی۔

 

یہ بھی پڑھیں

ڈرون گرانے کا امریکی دعویٰ جھوٹا ہے، ایران نے ویڈیو جاری کردی

ڈرون گرانے کا امریکی دعویٰ جھوٹا ہے، ایران نے ویڈیو جاری کردی

تہران: امریکا کی جانب سے ایرانی ڈرون گرائے جانے کے صدر ٹرمپ کے دعوے کو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے