محترمہ فاطمہ جناح کے زیر استعمال گاڑیاں بحالی کے لیے ماہرین کے حوالے

مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے زیر استعمال 2 تاریخی گاڑیاں اپنی اصل حالت میں واپس لانے کے لیے ماہرین کے حوالے کردی گئی ہیں۔ یہ اقدام حکومت پاکستان کی جانب سے اٹھایا گیا ہے۔ محترمہ فاطمہ جناح کے زیر استعمال دونوں گاڑیاں سنہرے رنگ کی کیڈلک اور مرسڈیز بینز 200 زنگ آلود حالت میں نیشنل میوزیم کے گیراج میں موجود تھیں

اس بارے میں ونٹاج اینڈ کلاسک کار کلب کے بانی محسن اکرام نے بتایا کہ وہ اسی گیراج میں ان گاڑیوں کی مرمت کریں گے۔ محسن اکرام نے 1992 میں موہٹہ پیلیس میں ان گاڑیوں کی نشاندہی کی تھی اور تب سے وہ حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ ان گاڑیوں کو محفوظ کیا جائے۔

محسن اکرام اپنی ٹیم کے ساتھ اس کام کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نیشنل میوزیم کے گیراج میں کام کرنے کے لیے پہلے گیراج کو درست حالت میں لانا ہوگا۔ ان کے مطابق گیراج میں روشنیاں موجود نہیں، دیواروں کا پلستر اکھڑ رہا ہے جبکہ بارش کے دوران چھت بھی ٹپکتی ہے

گیراج کے باہر کئی نیولے بھی دیکھے جا چکے ہیں جو سانپوں، چوہوں اور چھپکلیوں کی موجودگی کی نشاندہی کرتے ہیں تاہم محسن اکرام اپنے تفویض کردہ کام کے بارے میں زیادہ فکر مند ہیں۔

محسن اکرام نے بتایا کہ ابتدا میں ان کاروں کو درست حالت میں لانے کے بعد اسلام آباد کے آرمی میوزیم میں رکھنے کا منصوبہ تھا تاہم بعد ازاں اسے تبدیل کردیا گیا۔ اب ان گاڑیوں کو بحالی کے کام کے بعد قائد اعظم ہاؤس میوزیم یا فلیگ اسٹاف ہاؤس میں رکھا جائے گا۔

محسن اکرام اس سے قبل بھی کئی پرانی گاڑیوں کی مرمت و بحالی کا کام کر چکے ہیں اور وہ اس حوالے سے نہایت پرجوش ہیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق اس کام پر 23 ملین روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

وفاقی حکومت کا اقدام صوبائی خود مختاری پر حملے کے مترادف ہے

وفاقی حکومت کا اقدام صوبائی خود مختاری پر حملے کے مترادف ہے

کراچی: بلاول بھٹو نے کہا کہ وفاقی حکومت عوامی ردعمل سے پہلے اسپتالوں پر اپنا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے